حدیث نمبر: 1201
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ : اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ : أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ : " إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ "
علامہ وحید الزماں
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار ذکر کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید نے طلاق دی عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو طلاقِ بتہ۔ ان کے باپ عبد الرحمٰن نے اس مکان سے اٹھوا منگوایا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان کے پاس کہلا بھیجا، ان دنوں میں وہ مدینہ کا حاکم تھا۔ اللہ سے ڈر اور عورت کو اسی گھر میں پہنچا دے جس میں طلاق ہوئی ہے۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب ہیں (میں ان کو منع نہیں کرسکتا)، اور قاسم کی روایت میں ہے کہ مروان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا تم کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث یاد نہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث تم یاد نہ کرو تو کچھ ضرر نہیں۔ مروان نے کہا: اگر تمہارے نزدیک سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی نقل مکان کرنے کی یہ وجہ تھی کہ جورو اور خاوند میں لڑائی تھی تو وہ وجہ یہاں بھی موجود ہے۔
حدیث نمبر: 1202
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَتْ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سعید بن زید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے اس کو تین طلاق دیں، وہ اس مکان سے اٹھ گئی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے برا جانا۔
حدیث نمبر: 1203
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فِي مَسْكَنِ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ طَرِيقَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الْأُخْرَى مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا، حَتَّى رَاجَعَهَا "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بی بی کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں طلاق دی، اور ان کے گھر میں سے ہو کر مسجد کو راستہ جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گھروں کے پیچھے سے ہو کر دوسرے راستے سے جاتے تھے، کیونکہ مکروہ جانتے تھے مطلقہ عورت کے گھر میں جانے کو اذن لے کر بغیر رجعت کے۔
حدیث نمبر: 1204
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ فِي بَيْتٍ بِكِرَاءٍ، عَلَى مَنِ الْكِرَاءُ ؟ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ : " عَلَى زَوْجِهَا "، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَ زَوْجِهَا ؟ قَالَ : " فَعَلَيْهَا "، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهَا ؟ قَالَ : " فَعَلَى الْأَمِيرِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیّب سے سوال ہوا کہ اگر عورت گھر میں کرایہ سے ہو اور خاوند طلاق دے دے تو عدت تک کرایہ کون دے گا؟ سعید نے کہا: خاوند دے گا۔ اس نے کہا: اگر خاوند کے پاس نہ ہو؟ سعید نے کہا: بی بی دے گی۔ اس نے کہا: اگر بی بی کے پاس بھی نہ ہو؟ سعید نے کہا: حاکم دے گا۔