حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتَبًا كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَبْدًا لَهَا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَسَأَلَهُمَا، فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا، فَقَالَا : " حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَرُمَتْ عَلَيْكَ "
علامہ وحید الزماں
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ نفیع، سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب تھا یا غلام تھا، اس کے نکاح میں ایک عورت آزاد تھی، اس کو دو طلاق دیں پھر رجعت کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں نے اس کو حکم کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے جا کر مسئلہ پوچھ۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا درج میں (ایک مقام کا نام ہےمدینہ میں)، وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، جب اس نے مسئلہ پوچھا دونوں نے کہا: وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی۔
حدیث نمبر: 1186
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتَبًا كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ، فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَالَ : " حَرُمَتْ عَلَيْكَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ نفیع جو مکاتب تھا اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کا، اس نے اپنی بی بی کو دو طلاق دیں، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا، انہوں نے کہا: حرام ہوگئی تجھ پر۔
حدیث نمبر: 1187
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتَبًا كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " حَرُمَتْ عَلَيْكَ "
علامہ وحید الزماں
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ نفیع جو مکاتب تھا سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کا، اس نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا کہ میں نے اپنی آزاد عورت کو دو طلاق دی ہیں؟ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت تیرے اوپر حرام ہوگئی۔
حدیث نمبر: 1188
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً، وَعِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ، وَعِدَّةُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب غلام اپنی عورت کو دو طلاق دے تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی، یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے، خواہ اس کی بی بی لونڈی ہو یا آزاد۔ آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہیں۔
حدیث نمبر: 1189
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ، فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ، فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلَامِهِ، أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو شخص اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہو گی، نہ کہ اور کسی کے ہاتھ میں۔ اگر آدمی اپنے غلام کی لونڈی یا اس کی لونڈی چھین کر اس سے وطی کرے تو درست ہے۔