حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَاءَ جَاءَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفراء اور ان کی پھوبھی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ انہوں نے اپنے خاوند سے خلع کیا تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، جب یہ خبر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی انہوں نے برا نہ جانا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو عورت خلع کرے اس کی عدت مطلقہ کی عدت کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 1168
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَابْنَ شِهَابٍ، كَانُوا يَقُولُونَ : " عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ " .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے: جو عورت خلع کرے وہ تین طہر تک عدت کرے جیسے مطلقہ عدت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 1168B1
. قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ : إِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا إِلَّا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ، فَإِنْ هُوَ نَكَحَهَا، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا عِدَّةٌ مِنَ الطَّلَاقِ الْآخَرِ، وَتَبْنِي عَلَى عِدَّتِهَا الْأُولَى . قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی، مگر نیا نکاح کرے۔ پھر اگر اس نے نکاح کیا اسی خاوند سے اور اس نے چھوڑ دیا قبل جماع کے تو دوبارہ عدت نہ کرے، بلکہ پہلی عدت ہی پوری کر لے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ میں نے اچھا سنا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ میں نے اچھا سنا۔
حدیث نمبر: 1168B2
. قَالَ مَالِكٌ : إِذَا افْتَدَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِشَيْءٍ، عَلَى أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَطَلَّقَهَا طَلَاقًا مُتَتَابِعًا نَسَقًا، فَذَلِكَ ثَابِتٌ عَلَيْهِ، فَإِنْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ صُمَاتٌ، فَمَا أَتْبَعَهُ بَعْدَ الصُّمَاتِ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت کچھ مال دے اس شرط پر کہ خاوند اس کو طلاق دے دے، اور خاوند تین طلاق ایک ہی دفعہ اس کو دے دے تو تین طلاق پڑ جائے گی، اور جو ایک طلاق دے کر چپ ہو رہے، پھر دوسری یا تیسری طلاق دے تو چپ ہو جانے کے بعد جو طلاق دی لغو ہو جائے گی۔