کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: آزا دی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1160
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ : فَكَانَتْ إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلَاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ، وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ ؟ " فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے سبب سے شرع کی تین باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا جب آزاد ہوئیں ان کو اختیار ہوا اگر چاہیں اپنے خاوند کو چھوڑ دیں۔ دوسرا یہ کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا جب آزاد ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اس کو ملے گی جو آزاد کرے۔“ تیسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، گوشت کی ہانڈی چڑھی ہوئی تھی، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سالن پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے گوشت کی۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ گوشت صدقہ کا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ ہے بریرہ پر اور ہدیہ ہے ہمارے واسطے بریرہ کی طرف سے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1160
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2536، 2561، 2563، 2564، 2565، 2578، 2717، 2726، 2729، 2735، 5097، 5279، 5284، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1075، 1504، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2449، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4269، 4271، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3477، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2407، 4996، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2233، 2234، 2235،، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2335، 2336، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2074، 2076، 2077، 2521، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1154، 1155، 1256، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 279، 1259، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 10886، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24687، والحميدي فى «مسنده» برقم: 243، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13006، 13007، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 25»
حدیث نمبر: 1161
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ : " إِنَّ الْأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا " .
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو، پھر آزاد ہو جائے تو اس کو اختیار ہوگا، جب تک بعد آزادی کے اس کا شوہر اس سے جماع نہ کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1161
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14285، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4269، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16529، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13018، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 26»
حدیث نمبر: 1161B1
قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ، فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلَا تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَلَا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا، تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1161B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 26»
حدیث نمبر: 1162
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَتْنِي، فَقَالَتْ : " إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمْسَسْكِ زَوْجُكِ، فَإِنْ مَسَّكِ فَلَيْسَ لَكِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ "، قَالَتْ : فَقُلْتُ : هُوَ الطَّلَاقُ، ثُمَّ الطَّلَاقُ، ثُمَّ الطَّلَاقُ، فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنی عدی کی لونڈی جس کا نام زبراء تھا، ایک غلام کے نکاح میں تھی، وہ آزاد ہوگئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس کو بلایا اور کہا: میں تجھ سے ایک بات کہتی ہوں، مگر یہ نہیں چاہتی کہ تو کچھ کر بیٹھے، تجھے اختیار ہے جب تک تیرا خاوند تجھ سے جماع نہ کرے، اگر جماع کرے گا پھر تجھے اختیار نہ رہے گا۔ زبراء بول اٹھی: اگر ایسا ہی ہے تو طلاق ہے، پھر طلاق ہے، پھر طلاق ہے۔ جدا ہوگئی اپنے خاوند سے تین بار کہہ کر۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1162
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14332، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4270، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1250، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13017، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16802، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 27»
حدیث نمبر: 1163
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ، أَوْ ضَرَرٌ، فَإِنَّهَا تُخَيَّرُ، فَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْ " . قَالَ مَالِكٌ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ ثُمَّ تُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَوْ يَمَسَّهَا : إِنَّهَا إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَلَا صَدَاقَ لَهَا، وَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا . وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : " إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْهُ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ " .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سعید بن مسیّب نے کہا: جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خاوند کو جنون یا اور کوئی مرض (جیسے جزام یا برص) نکلے تو عورت کو اختیار ہے، خواہ مرد کے پاس رہے یا جدا ہو جائے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1163
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14331، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10708، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 28»
حدیث نمبر: 1163B1
قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُخَيَّرَةِ : إِذَا خَيَّرَهَا زَوْجُهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، فَقَدْ طَلُقَتْ ثَلَاثًا، وَإِنْ قَالَ زَوْجُهَا : لَمْ أُخَيِّرْكِ إِلَّا وَاحِدَةً، فَلَيْسَ لَهُ ذَلِكَ، وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُهُ . قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ خَيَّرَهَا، فَقَالَتْ : قَدْ قَبِلْتُ وَاحِدَةً، وَقَالَ : لَمْ أُرِدْ هَذَا، وَإِنَّمَا خَيَّرْتُكِ فِي الثَّلَاثِ جَمِيعًا، أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَقْبَلْ إِلَّا وَاحِدَةً أَقَامَتْ عِنْدَهُ عَلَى نِكَاحِهَا، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِرَاقًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو لونڈی غلام کے نکاح میں آئے، پھر آزاد ہو جائے صحبت سے پہلے، اور خاوند سے جدا ہونا اختیار کرے تو اس کو مہر نہ ملے گا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے تھے: جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور عورت خاوند کو اختیار کرے تو طلاق نہ پڑے گی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ اچھا سنا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب مرد عورت کو اختیار دے اور عورت اپنی تئیں اختیار کرے (یعنی خاوند سے جدائی چاہے) تو تین طلاق پڑ جائیں گی۔ اگر خاوند کہے: میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا، تو یہ نہ سنا جائے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر خاوند نے بی بی کو طلاق کا اختیار دیا، عورت نے کہا: میں نے ایک طلاق قبول کی، خاوند نے کہا: میری غرض یہ نہ تھی، میں نے تجھے تین طلاق کا اختیار دیا تھا، مگر عورت ایک ہی طلاق کو قبول کرے، زیادہ نہ لے تو وہ خاوند سے جدا نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1163B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 29»
حدیث نمبر: 1164
مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، فَاخْتَارَتْهُ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ . ¤ قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ . ¤
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے دے، پھر وہ عورت اس (خاوند) کو اختیار کرلے تو یہ اختیار طلاق شمار نہیں ہوگا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہی وہ سب سے بہترین قول ہے جو (اس مسئلے میں) میں نے سنا ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1164
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 30»
حدیث نمبر: 1164B1
قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُخَيَّرَةِ : إِذَا خَيَّرَهَا زَوْجُهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، فَقَدْ طَلُقَتْ ثَلَاثًا، وَإِنْ قَالَ زَوْجُهَا : لَمْ أُخَيِّرْكِ إِلَّا وَاحِدَةً، فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ، وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے مخیّرہ یعنی اختیار دی جانے والی عورت کے متعلق فرمایا کہ جب اس کا خاوند اسے (جدا ہوجانے کا) اختیار دے دے، پھر وہ اپنے آپ کو اختیار کرلے (اور خاوند کو چھوڑ دے) تو اسے تین طلاقیں ہوجائیں گی، اگر اس کا خاوند یہ کہے کہ میں تجھے صرف ایک طلاق کے سوا کچھ اختیار نہیں دیا تھا تو یہ بات خاوند کے حق میں قبول نہیں ہوگی اور یہی وہ سب سے بہترین قول ہے جو میں نے سنا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1164B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 30»
حدیث نمبر: 1164B2
قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ خَيَّرَهَا فَقَالَتْ : قَدْ قَبِلْتُ وَاحِدَةً وَقَالَ : لَمْ أُرِدْ هَذَا، وَإِنَّمَا خَيَّرْتُكِ فِي الثَّلَاثِ جَمِيعًا، أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَقْبَلْ إِلَّا وَاحِدَةً، أَقَامَتْ عِنْدَهُ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِرَاقًا .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اگر اس کا خاوند اسے اختیار دے دے اور وہ کہے کہ میں نے ایک طلاق قبول کرلی اور خاوند کہے کہ میں نے ایک طلاق (کے اختیار کو) مراد ہی نہیں لیا، میں نے تو تمہیں صرف اور صرف تین اکٹھی طلاقوں کا اختیار دیا تھا، تو (اس صورت میں) بلاشبہ عورت اگر ایک کے سوا کچھ قبول نہ کرے تو (اسے کوئی بھی طلاق نہ ہوگی) وہ خاوند کے پاس ٹھہری رہے گی اور یہ (عمل ان میں) جدائی (کا باعث) نہیں ہے۔
SA فائدہ: EA امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ باقی ائمہ اور اہل حدیث کے نزدیک مذکورہ صورت میں ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1164B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 30»