حدیث نمبر: 1154
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَةً، إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا، فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : " إِنَّ رَجُلًا جَعَلَ امْرَأَةً عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ، إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا، فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا، أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن عمرو نے قاسم بن محمد سے پوچھا: اگر کوئی شخص کسی عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ کو طلاق ہے؟ قاسم بن محمد نے کہا کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک عورت کی نسبت یہ کہا تھا کہ اگر میں اس سے نکاح کروں تو وہ مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار کا نہ دے۔
حدیث نمبر: 1155
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْكِحَهَا، فَقَالَا : " إِنْ نَكَحَهَا فَلَا يَمَسَّهَا، حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ایک شخص نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے پوچھا: اگر کوئی شخص کسی عورت سے ظہار کرے نکاح سے پہلے؟ تو دونوں نے کہا: اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارۂ ظہار ادا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1156
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ لَهُ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ : " إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ "
علامہ وحید الزماں
عروہ بن زبیر نے کہا: جو شخص ظہار کرے چار عورتوں سے ایک ہی دفعہ تو اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا۔
حدیث نمبر: 1157
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ : وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا ¤
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے بھی ایسا ہی کہا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک بھی ایسا ہی حکم ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک بھی ایسا ہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 1157B1
قَالَ مَالِكٌ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ : «فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا» (سورة المجادلة آية 3) . «فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا» (سورة المجادلة آية 4) .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ظہار کے کفارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تم میں سے جو لوگ ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے، ان کو ایک بردہ آزاد کرنا پڑے گا قبل جماع کے، اگر بردہ نہ ملے تو دو مہینے کے پے در پے روزے رکھنے ہوں گے قبل جماع کے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔“
حدیث نمبر: 1157B2
قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنَ امْرَأَتِهِ فِي مَجَالِسَ مُتَفَرِّقَةٍ، قَالَ : لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ تَظَاهَرَ، ثُمَّ كَفَّرَ، ثُمَّ تَظَاهَرَ بَعْدَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ أَيْضًا .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص اپنی عورت سے کئی مرتبہ کئی مجلسوں میں ظہار کرے اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا، البتہ اگر ایک مرتبہ ظہار کر کے کفارہ ادا کر دیا پھر دوبارہ ظہار کیا تو پھر کفارہ لازم آئے گا۔
حدیث نمبر: 1157B3
قَالَ مَالِكٌ : وَمَنْ تَظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ مَسَّهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ، وَيَكُفُّ عَنْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ، وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ، وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی شخص نے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے عورت سے جماع کیا تو اس پر ایک ہی کفارہ لازم آئے گا، اب جب تک کفارہ نہ دے عورت سے علیحدہ رہے اور اللہ سے استغفار کرے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ میں نے اچھا سنا۔
حدیث نمبر: 1157B4
قَالَ مَالِكٌ : وَالظِّهَارُ مِنْ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ، مِنَ الرَّضَاعَةِ وَالنَّسَبِ سَوَاءٌ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ظہار میں محرم رضاعی یا محرم نسبی سے تشبیہ دینا دونوں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 1157B5
قَالَ مَالِكٌ : وَلَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ ظِهَارٌ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عورتوں پر ظہار کا کفارہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1157B6
قَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : «وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا » (سورة المجادلة آية 3)، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَّ تَفْسِيرَ ذَلِكَ : أَنْ يَتَظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ ثُمَّ يُجْمِعَ عَلَى إِمْسَاكِهَا وَإِصَابَتِهَا، فَإِنْ أَجْمَعَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُجْمِعْ بَعْدَ تَظَاهُرِهِ مِنْهَا عَلَى إِمْسَاكِهَا وَإِصَابَتِهَا، فَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے: ”جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں پھر لوٹ کر وہی بات کرتے ہیں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہار کے بعد پھر عورت کو رکھنا اور اس سے صحبت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا، اور جو ظہار کے بعد عورت کو طلاق دے دے اور نہ رکھے تو کچھ کفارہ نہیں، اگر طلاق کے بعد پھر اس سے نکاح کرے تو صحبت نہ کرے جب تک ظہار کا کفارہ نہ دے۔
حدیث نمبر: 1157B7
قَالَ مَالِكٌ : فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنْ أَمَتِهِ : إِنَّهُ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُصِيبَهَا، فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ الظِّهَارِ قَبْلَ أَنْ يَطَأَهَا .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے، پھر اس سے صحبت کرنا چاہے تو درست نہیں جب تک کفارہ نہ دے۔
حدیث نمبر: 1157B8
قَالَ مَالِكٌ : لَا يَدْخُلُ عَلَى الرَّجُلِ إِيلَاءٌ فِي تَظَاهُرِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُضَارًّا، لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيءَ مِنْ تَظَاهُرِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ظہار سے ایلاء نہیں ہوتا، البتہ جب ظہار سے یہ نیت ہو کہ کفارہ نہ دیں گے اور عورت کو ضرر پہنچائیں گے تو ایلاء ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 1158
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا عَلَيْكِ مَا عِشْتِ، فَهِيَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : " يُجْزئهِ عَنْ ذَلِكَ عِتْقُ رَقَبَةٍ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عروہ بن زبیر سے پوچھا: اگر کوئی شخص اپنی عورت سے کہے: جب تک تو زندہ ہے اگر میں دوسری عورت سے نکاح کروں تو وہ میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ؟ عروہ بن زبیر نے جواب دیا کہ اس شخص کو ایک بردہ آزاد کرنا کافی ہے۔