کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الْعِرَاقِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِامْرَأَتِهِ : حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلِهِ : " أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ "، فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " فَقَالَ : أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " أَسْأَلُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ، مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ "، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ، أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْفِرَاقَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " هُوَ مَا أَرَدْتَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکّہ میں مجھ سے ملے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، ایک شخص ملا اور سلام کیا، پوچھا: تو کون ہے؟ وہ بولا: میں وہی شخص ہوں جس کو تم نے حکم کیا تھا مکّہ میں ملنے کا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» سے تیری کیا مراد تھی؟ وہ بولا: اے امیر المؤمنین! اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا، اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسی تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1136
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15010، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4436، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1679، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11232، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18439، 18443، 18444، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 5»
حدیث نمبر: 1137
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ : " إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ " . قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جو شخص اپنی عورت سے کہے: تو مجھ پر حرام ہے، تو تین طلاق پڑ جائیں گی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ روایت بہت اچھی ہے میرے نزدیک۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1137
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11380، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18173، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1694، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1138
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ : " إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: خلیہ اور بریہ ان میں سے ہر ایک میں تین طلاقیں پڑ جائیں گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1138
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15019، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4444، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1679 وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11158 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18159، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 7»
حدیث نمبر: 1139
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ لِقَوْمٍ، فَقَالَ لِأَهْلِهَا : شَأْنَكُمْ بِهَا، فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تھی، اس نے لونڈی کے مالکوں سے کہہ دیا: تم جانو تمہارا کام جانے۔ لوگوں نے اس کو ایک طلاق سمجھا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1139
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4448، والشافعي فى «الاُم » برقم: 64/4، 216/7، 245، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 8»
حدیث نمبر: 1140
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ بَرِئْتِ مِنِّي وَبَرِئْتُ مِنْكِ : " إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، بِمَنْزِلَةِ الْبَتَّةِ " .
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب کہتے تھے: اگر مرد عورت سے کہے: میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی، تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1140
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11187، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 8140، 8165، 8170، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 1140B1
قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ أَوْ بَائِنَةٌ : إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا، وَيُدَيَّنُ فِي الَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، أَوَاحِدَةً أَرَادَ، أَمْ ثَلَاثًا ؟ فَإِنْ قَالَ وَاحِدَةً، أُحْلِفَ عَلَى ذَلِكَ، وَكَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، لِأَنَّهُ لَا يُخْلِي الْمَرْأَةَ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا، وَلَا يُبِينُهَا وَلَا يُبْرِيهَا، إِلَّا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، وَالَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا تُخْلِيهَا وَتُبْرِيهَا، وَتُبِينُهَا الْوَاحِدَةُ . قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے: تو خلیہ ہے، یا بریہ ہے، یا بائنہ ہے، تو اگر اس عورت سے صحبت کر چکا ہے، تین طلاق پڑیں گی، اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی، اگر اس نے کہا: میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے، مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہو جائے گی، اب رجعت نہیں کر سکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کر سکتا ہے، کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہو جاتی ہے، جس سے صحبت کر چکا ہے وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1140B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 9»