حدیث نمبر: 1126
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ، أَوِ اشْتَرَى الْجَارِيَةَ، فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا، وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ، وَإِذَا اشْتَرَى الْبَعِيرَ، فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے، یا لونڈی خریدے تو اس کی پیشانی پکڑ کر برکت کی دعا کرے، اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان پر ہاتھ رکھے اور شیطان مردود سے پناہ مانگے۔“
حدیث نمبر: 1127
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ : أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ إِلَى رَجُلٍ أُخْتَهُ، فَذَكَرَ أَنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَحْدَثَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَضَرَبَهُ أَوْ كَادَ يَضْرِبُهُ، ثُمَ قَالَ : " مَا لَكَ وَلِلْخَبَرِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کا پیغام دیا ایک شخص کی بہن کو، اس نے بیان کیا کہ وہ عورت بدکار ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی، آپ نے اس شخص کو بلا کر مارا یا مارنے کا قصد کیا، اور کہا کہ تجھے یہ خبر پہنچانے سے کیا غرض تھی۔
حدیث نمبر: 1128
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَا يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ، يَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ : " أَنَّهُ يَتَزَوَّجُ إِنْ شَاءَ، وَلَا يَنْتَظِرُ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابو عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر کہتے تھے: جس شخص کی چار عورتیں ہوں، پھر وہ اس میں سے ایک عورت کو تین طلاق دے دے تو ایک عورت نئی کر سکتا ہے، اس کی عدت گزرنے کا انتظار ضروری نہیں۔
حدیث نمبر: 1129
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَفْتَيَا الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَامَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بِذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ : " طَلَّقَهَا فِي مَجَالِسَ شَتَّى "
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر نے ولید بن عبدالملک کو جس سال وہ مدینہ میں آیا تھا ایسا ہی فتویٰ دیا تھا، مگر قاسم بن محمد نے یہ کہا کہ اس عورت کو کئی مجلسوں میں طلاق دی ہو۔
حدیث نمبر: 1130
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " ثَلَاثٌ لَيْسَ فِيهِنَّ لَعِبٌ : النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالْعِتْقُ "
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب نے کہا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کھیل نہیں ہوتا: نکاح، طلاق، اور عتاق۔
حدیث نمبر: 1131
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى كَبِرَتْ، فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً، فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا، فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ، فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا، حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا، ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ، فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ، فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً، ثُمَّ رَاجَعَهَا، ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ، فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ، فَقَالَ : " مَا شِئْتِ، إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَى مَا تَرَيْنَ مِنَ الْأُثْرَةِ، وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُكِ "، قَالَتْ : بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَى الْأُثْرَةِ، فَأَمْسَكَهَا عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ قَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَى الْأُثْرَةِ
علامہ وحید الزماں
حضرت رافع بن خدیج نے محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے نکاح کیا، وہ ان کے پاس رہیں، جب بڑھیا ہوئیں تو رافع نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا، تو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئے، تو بڑھیا عورت نے طلاق مانگی، محمد بن مسلمہ نے ایک طلاق دے دی، پھر جب عدت اس کی گزرنے لگی رجعت کرلی، اور جوان عورت کی طرف مائل رہے، بڑھیا نے پھر طلاق مانگی، انہوں نے ایک طلاق اور دے دی، پھر جب عدت گزرنے لگی رجعت کرلی، اور جوان عورت کی طرف مائل رہے، بڑھیا نے پھر طلاق مانگی تب رافع بن خدیج نے کہا: اب تجھے کیا منظور ہے، ایک طلاق اور رہ گئی ہے، اگر تو اس حال میں میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہ اور اگر نہیں رہ سکتی تو میں تجھے چھوڑ دوں گا، اس نے کہا: مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے۔ رافع نے اس کو رکھ لیا اور اپنے اوپر کچھ گناہ نہیں سمجھا۔