حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزَّبِيرِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سِمْوَالٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَنَكَحَتْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، فَاعْتَرَضَ عَنْهَا، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا، فَفَارَقَهَا، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا، وَهُوَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْ تَزْوِيجِهَا، وَقَالَ : " لَا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت زبیر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ رفاعہ بن سموال قرظی نے اپنی بی بی تمیمہ بنت وہب کو رسول اللہ کے زمانے میں تین طلاقیں دیں، تو انہوں نے نکاح کیا عبدالرحمٰن بن زبیر سے۔ مگر عبدالرحمٰن اس پر قادر نہ ہوئے اور جماع نہ کر سکے، اس واسطے عبدالرحمٰن نے اس کو چھوڑ دیا، تب رفاعہ جو شوہر اول تھے انہوں نے پھر نکاح کرنا چاہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور رفاعہ سے فرمایا: ”وہ عورت تجھ کو حلال نہیں جب تک دوسرے شخص سے جماع نہ کرائے۔“
حدیث نمبر: 1091
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، هَلْ يَصْلُحُ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ ایک شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے، بعد اس کے اس سے دوسرا شخص نکاح کرے، اور پھر طلاق دے دے جماع کرنے سے پہلے، اب پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ جواب دیا کہ نہیں کر سکتا جب تک دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1092
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَمَاتَ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، هَلْ يَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يُرَاجِعَهَا ؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : " لَا يَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يُرَاجِعَهَا " .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیں، پھر اس سے دوسرے شخص نے نکاح کیا اور وہ جماع کرنے سے پہلے مر گیا، کیا پہلے شوہر کو اس سے نکاح کر لینا درست ہے؟ جواب دیا: نہیں۔
حدیث نمبر: 1092
قَالَ مَالِكٌ، فِي الْمُحَلِّلِ : إِنَّهُ لَا يُقِيمُ عَلَى نِكَاحِهِ ذَلِكَ، حَتَّى يَسْتَقْبِلَ نِكَاحًا جَدِيدًا، فَإِنْ أَصَابَهَا فِي ذَلِكَ، فَلَهَا مَهْرُهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص حلالہ کی نیت سے نکاح کرے اس کا نکاح فاسد ہے، پھر نئے سرے سے نکاح کرے، اگر جماع کر چکا ہے تو مہر اس پر واجب ہو گا۔