حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثیبہ زیادہ حقدار ہے اپنے نفس پر ولی سے، اور بکر سے اذن لیا جائے گا، اور اذن اس کا سکوت ہے۔“
حدیث نمبر: 1078
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا، أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، أَوِ السُّلْطَانِ "
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت کا نکاح نہ کیا جائے مگر اس کے ولی کے اذن سے، یا اس کے کنبے میں جو شخص عقلمند ہو اس کے اذن سے، یا بادشاہ کے اذن سے۔
حدیث نمبر: 1079
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، " كَانَا يُنْكِحَانِ بَنَاتِهِمَا الْأَبْكَارَ، وَلَا " .
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اپنی بکر بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے، اور ان سے نہیں پوچھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1079B1
قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي نِكَاحِ الْأَبْكَارِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک ایسا ہی حکم ہے بکر عورتوں میں۔
حدیث نمبر: 1079B2
قَالَ مَالِكٌ : وَلَيْسَ لِلْبِكْرِ جَوَازٌ فِي مَالِهَا، حَتَّى تَدْخُلَ بَيْتَهَا، وَيُعْرَفَ مِنْ حَالِهَا
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: بکر کو اپنے مال میں تصرف نہیں پہنچتا جب تک اپنے خاوند کے گھر میں نہ آئے، اور اس کا حال نہ معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 1080
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانُوا يَقُولُونَ فِي الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا : " إِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لَهَا "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے: اگرعورت باکرہ کا نکاح اس کا باپ اس کے اذن کے بغیر کر دے تو نکاح اس کا لازم ہو جاتا ہے۔