حدیث نمبر: 1071
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: قربانی دو دن تک درست ہے بعد عید الاضحیٰ کے۔
حدیث نمبر: 1072
وحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، مِثْلُ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 1073
وحَدَّثَنِي، عَنْ وحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ " .
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پیٹ کے بچے کی طرف سے قربانی نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1073B1
قَالَ مَالِكٌ : الضَحِيَّةُ سُنَّةٌ وَلَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ . وَلا أُحِبُّ لأَحَدٍ مِمَّنْ قَوِيَ عَلَى ثَمَنِهَا، أَنْ يَتْرُكَهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قربانی سنّت ہے، واجب نہیں۔ اور جو شخص قربانی خرید سکتا ہو اس کو ترک کرنا اچھا نہیں ہے۔