کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: ایک قربانی میں کئی آدمیوں کے شریک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نحر کیا حدیبیہ کے سال اونٹ سات آدمیوں کے طرف سے، اور گائے ذبح کی سات آدمیوں کی طرف سے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الضحايا / حدیث: 1068
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1318، وأبو داود : 2809، و الترمذي : 904، والنسائي : 4398، وابن ماجه : 3132، والدارمي: 1956، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14315، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1304، 1305، 1306، 1325، 1330، فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 9»
حدیث نمبر: 1069
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ : " كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً " .
علامہ وحید الزماں
حضرت عمارہ بن صیاد سے روایت ہے کہ عطاء بن یسار نے خبر دی ان کو، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سن کر،کہتے تھے کہ ہم قربانی کرتے تھے ایک بکری اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے، بعد اس کے فخر سمجھ کر ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری کرنا شروع کی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الضحايا / حدیث: 1069
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1505، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3147، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 19053، والطبراني فى "الكبير"، 3919، 3920، 3981، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4085، فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 10»
حدیث نمبر: 1069B1
قَالَ مَالِك : وَأَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْبَدَنَةِ وَالْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ الْوَاحِدَة، أَنَّ الرَّجُلَ يَنْحَرُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ الْبَدَنَةَ، وَيَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ الْوَاحِدَةَ هُوَ يَمْلِكُهَا، وَيَذْبَحُهَا عَنْهُمْ، وَيَشْرَكُهُمْ فِيهَا، فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ النَّفَرُ الْبَدَنَةَ أَوِ الْبَقَرَةَ أَوِ الشَّاةَ، يَشْتَرِكُونَ فِيهَا فِي النُّسُكِ وَالضَّحَايَا، فَيُخْرِجُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ حِصَّةً مِنْ ثَمَنِهَا وَيَكُونُ لَهُ حِصَّةٌ مِنْ لَحْمِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ، وَإِنَّمَا سَمِعْنَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ لَا يُشْتَرَكُ فِي النُّسُكِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک اونٹ یا گائے یا بکری جس کا وہ مالک ہو ذبح کرے اور سب آدمیوں کو ثواب میں شریک کرے، لیکن یہ صورت کہ ایک آدمی ایک اونٹ یا گائے یا بکری خرید کرے اور کئی آدمیوں کو قربانی میں شریک کرے، یعنی ہر ایک سے حصہ رسد قیمت لے اور اس کے موافق گوشت دے مکروہ ہے، ہم نے تو یہ سنا ہے کہ قربانی میں شرکت نہیں ہو سکتی، بلکہ ایک گھر کے لوگوں کی طرف سے ایک قربانی ہو سکتی ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الضحايا / حدیث: 1069B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 10»
حدیث نمبر: 1070
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا بَدَنَةً وَاحِدَةً أَوْ بَقَرَةً وَاحِدَةً " . قَالَ مَالِك : لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ؟
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے اور اپنے اہلِ بیت کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے سے زیادہ نہیں قربانی کیا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یاد نہیں ابن شہاب نے ایک اونٹ کہا یا ایک گائے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الضحايا / حدیث: 1070
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح لغيره
تخریج حدیث «مرفوع صحيح لغيره، وله شواهد من حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق فأما حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 294، 1709، 1720، 2952 م، 5548، 5559، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1211، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1750، 1782، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 289، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2963، 2981، 3135، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1945، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3834، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2904، 2905، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3527، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1499،والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4112، 4113، فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 11»