حدیث نمبر: 1056
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " لَمْ يَكُنْ يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ عَقِيقَةً، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَكَانَ يَعُقّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ، عَنِ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جو کوئی ان کے گھر والوں میں سے عقیقے کو کہتا تو وہ دیتے، اور اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ایک ایک بکری عقیقے میں دیتے۔
حدیث نمبر: 1057
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي " يَسْتَحِبُّ الْعَقِيقَةَ وَلَوْ بِعُصْفُورٍ "
علامہ وحید الزماں
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ عقیقہ بہتر ہے اگرچہ ایک چڑیا ہی ہو۔
حدیث نمبر: 1058
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ " عُقَّ عَنْ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 1059
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ " كَانَ يَعُقّ عَنْ وَالْإِنَاثِ بِشَاةٍ شَاةٍ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، ایک ایک بکری کرتے تھے عقیقے میں۔
حدیث نمبر: 1059B1
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ : أَنَّ مَنْ عَقَّ، بَنِيهِ الذُّكُورِ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ، شَاةٍ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ، وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا، فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ، فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا، لَا يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ، وَلَا عَجْفَاءُ، وَلَا مَكْسُورَةٌ، وَلَا مَرِيضَةٌ، وَلَا يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ، وَلَا جِلْدُهَا، وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا، وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا، وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا، وَلَا يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَيْءٍ مِنْ دَمِهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ لڑکا ہو یا لڑکی ہر ایک کی طرف سے ایک بکری دے، اور عقیقہ واجب نہیں ہے مستحب ہے، مگر عقیقے کی بکری مثل قربانی کے چاہیے، کانی اور دبلی اور سینگ ٹوٹی اور بیمار نہ ہو۔ اور عقیقے کا گوشت اور کھال بیچنا درست نہیں، اور ہڈیاں اس کی توڑنا چاہیے، اور عقیقہ کرنے والے عقیقے کے گوشت میں سے کھائیں اور فقیروں کو کھلائیں، اور عقیقے کی بکری کا خون بچے کو نہ لگائیں۔