کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جو نذریں درست نہیں جن میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَى صَاحِبِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَذَا ؟ " فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ وَلَا يَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَلَا يَجْلِسَ وَيَصُومَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث پوچھا! لوگوں نے کہا: اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا، نہ سایہ لوں گا، نہ بیٹھوں گا، اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1015
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6704، وأبو داود : 3300، وابن ماجه : 2136، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17673، فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1015B1
قَالَ مَالِك : وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِكَفَّارَةٍ، وَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتِمَّ مَا كَانَ لِلَّهِ طَاعَةً، وَيَتْرُكَ مَا كَانَ لِلَّهِ مَعْصِيَةً
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارہ دینے کا حکم کیا ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عبادت ہے اس کو پورا کرے اور جو بُرا ہے اس کو ترک کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1015B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 6ق»
حدیث نمبر: 1016
مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا تَنْحَرِي ابْنَكِ، وَكَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَكَيْفَ يَكُونُ فِي هَذَا كَفَّارَةٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ اللهَ قَالَ : « الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ » (58-المجادلة:2)ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ مَا رَأَيْتَ .
علامہ وحید الزماں
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آکر کہنے لگی کہ بے شک میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اپنے بیٹے کو قربان کروں گی تو سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو اپنے بیٹے کو نحر (ذبح) نہ کر اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے تو سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما پاس موجود ایک بزرگ کہنے لگے کہ بھلا اس صورت میں کفارہ کیسے پڑے گا ( یہ تو معصیت کی نذر ہے اور وہ تو لغو شمار ہوتی ہے) تو سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: « الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ » (58-المجادلة:2) ”وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں“ ۔ (ظہار کرنا بھی ایک معصیت ہے) پھر اللہ نے اس میں بھی وہ کفارہ مقرر کیا ہے جو تمہیں معلوم ہی ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1016
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 20079، 20136، والبيهقي فى«سننه الصغير» برقم: 4070، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4333، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15903، 15906، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12514، فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 7»
حدیث نمبر: 1017
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ابْنِ الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ " .
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا: ایک شخص نے کہا: مال میرا کعبہ کے دروازے پر وقف ہے۔ انہوں نے کہا: اس میں کفارہ قسم کا لازم آئے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1017
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6696، 6700، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2241، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4387، 4388، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3817، 3818، 3819، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4729، 4730، 4731، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3289، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1526، 1526 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2383، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2126، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18920، 20116، 20147، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24709، 24775، فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 8»
حدیث نمبر: 1017B1
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ : مَعْنَى قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللهَ فَلَا يَعْصِهِ، إِنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الشَّأْمِ، أَوْ إِلَى مِصْرَ، أَوْ إِلَى الرَّبَذَةِ، أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، مِمَّا لَيْسَ لِلهِ بِطَاعَةٍ، إِنْ كَلَّمَ فُلَانًا، أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، إِنْ هُوَ كَلَّمَهُ، أَوْ حَنِثَ بِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلهِ فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ طَاعَةٌ، وَإِنَّمَا يُوَفَّى لِلهِ بِمَا لَهُ فِيهِ طَاعَةٌ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جو فرمان ہے کہ : ”جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے“ ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص یہ نذر مان لے کہ وہ ملک شام یا مصر یا ربذہ یا ان جیسی کسی جگہ کی طرف پیدل چل کر جائے گا، وہ (جگہیں) کہ جن (تک پیدل جانے) میں اللہ کی اطاعت نہیں ہے، (اور وہ اس طرح کی نذر ماننے سے پہلے یہ کہتا ہے کہ ) اگر اس نے فلاں شخص سے کلام کیا یا اس کے مشابہہ کوئی اور بات کہی (تو مصر یا شام وغیرہ تک پیدل جاؤں گا)، چنانچہ اگر وہ اس سے کلام کرلے یا جس بات پر قسم اٹھائی تھی اس (کے خلاف عمل کرکے اس) کو توڑ دے تو اس پر ان میں سے کسی بھی چیز میں کچھ بھی لازم نہ ہوگا کیونکہ ان اشیاء میں اللہ کی اطاعت نہیں ہے اور اللہ کے لئے تو اس چیز کو پورا کیا جاتا ہے جس میں اس کی اطاعت ہو۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1017B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 8»