کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: کون سی بات اللہ کے راستے میں بری ہے (یعنی دھوکہ دینا)
حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَحْمِلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ بَعِيرٍ، يَحْمِلُ الرَّجُلَ إِلَى الشَّامِ عَلَى بَعِيرٍ، وَيَحْمِلُ الرَّجُلَيْنِ إِلَى الْعِرَاقِ عَلَى بَعِيرٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ : احْمِلْنِي وَسُحَيْمًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " نَشَدْتُكَ اللَّهَ، أَسُحَيْمٌ زِقٌّ ؟ " قَالَ لَهُ : نَعَمْ
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو۔ فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے، اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے، ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھ کو قسم دیتا ہوں اللہ کی سحیم سے تیری مراد مشک ہے؟ وہ بولا: ہاں۔