حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، فَأُقْتَلُ "، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ ثَلَاثًا : أَشْهَدُ بِاللَّهِ
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے چاہی یہ بات کہ اللہ کی راہ میں لڑوں پھر قتل کیا جاؤں، پھر جِلایا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر جِلایا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اس بات کی میں تین بار گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایساہی فرمایا۔
حدیث نمبر: 986
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ : يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ، فَيُقَاتِلُ، فَيُسْتَشْهَدُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہنسے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دو شخصوں پر، کہ ایک دوسرے کا قاتل ہو گا، اور دونوں جنت میں جائیں گے، ایک شخص نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور مارا گیا، بعد اس کے مارنے والے پر اللہ نے رحم کیا اور وہ مسلمان ہوا اور جہاد کیا اور شہید ہوا۔“
حدیث نمبر: 987
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! نہیں زخمی ہو گا کوئی شخص اللہ کی راہ میں، اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو زخمی ہو تا ہے اس کی راہ میں، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا جس کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 988
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَتْلِي بِيَدِ رَجُلٍ صَلَّى لَكَ سَجْدَةً وَاحِدَةً، يُحَاجُّنِي بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اے پروردگار! مت قتل کرانا مجھ کو اس شخص کے ہاتھ سے جس نے تجھ کو ایک سجدہ بھی کیا ہو، تاکہ اس سجدہ کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے سامنے مجھ سے جھگڑے۔
حدیث نمبر: 989
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ "، فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ بِهِ، فَنُودِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ یا رسول الله صلى الله علیہ وسلم! اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں، مخلص ہوں، منہ سامنے رکھنے والا ہوں، نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ صلی الله علیہ وسلم نے: ”ہاں۔“ جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھر پکارا یا بلانے کا حکم دیا، پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کس طرح کہا تو نے؟“ اس نے اپنی بات کو دہرا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے۔“
حدیث نمبر: 990
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ : " هَؤُلَاءِ أَشْهَدُ عَلَيْهِمْ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : أَلَسْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِإِخْوَانِهِمْ أَسْلَمْنَا، كَمَا أَسْلَمُوا، وَجَاهَدْنَا كَمَا جَاهَدُوا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى، وَلَكِنْ لَا أَدْرِي مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِي " فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ : أَئِنَّا لَكَائِنُونَ بَعْدَكَ
علامہ وحید الزماں
حضرت ابونضر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ اُحد کے شہیدوں کے لئے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جن کا میں گواہ ہوں۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم! کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں؟ مسلمان ہوئے ہم جیسے وہ مسلمان ہوئے، اور جہاد کیا ہم نے جیسے انہوں نے جہاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مگر مجھے معلوم نہیں کہ بعد میرے کیا کرو گے۔“ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، پھر روئے اور فرمایا: ہم زندہ رہیں گے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔
حدیث نمبر: 991
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ، فَقَالَ : بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَ مَا قُلْتَ "، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . يَعْنِي الْمَدِينَةَ
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور قبر کھد رہی تھی مدینہ میں، ایک شخص قبر کو دیکھ کر بولا: کیا بری جگہ ہے مسلمان کو۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری بات کہی تو نے۔“ وہ شخص بولا: یا رسول الله صلى الله علیہ وسلم! میرا مطلب یہ تھا کہ الله کی راہ میں قتل ہونا اس سے بہتر ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں، مگر ساری زمین میں کوئی مقام ایسا نہیں کہ میں اپنی قبر وہاں پسند کرتا ہوں مدینہ سے تین بار۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا۔