کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: نفل خمس میں سے دئیے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يُعْطَوْنَ النَّفَلَ مِنَ الْخُمُسِ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب نے کہا: لوگ نفل کو خمس میں سے دیا کرتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: یہ میرے نزدیک اس باب میں جو میں نے سنا، مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 978
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12812، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3958، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2706، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9341، 9342، 9344، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33914، 33970، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 20»
حدیث نمبر: 978B1
قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ . وَسُئِلَ مَالِك، عَنِ النَّفَلِ، هَلْ يَكُونُ فِي أَوَّلِ مَغْنَمٍ ؟ قَالَ : ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا فِي ذَلِكَ أَمْرٌ مَعْرُوفٌ مَوْثُوقٌ إِلَّا اجْتِهَادُ السُّلْطَانِ، وَلَمْ يَبْلُغْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا "، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ فِي أَوَّلِ مَغْنَمٍ وَفِيمَا بَعْدَهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا نفل پہلے غنیمت میں ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ امام کی رائے پر موقوف ہے، اس میں کوئی قاعدہ مقرر نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جہاد میں نفل نہیں مقرر کیا بلکہ بعض لڑائیوں میں، جیسے حنین میں، تو یہ امام کی رائے پر موقوف ہے خواہ پہلے غنیمت میں نفل مقرر کرے خواہ بعد اس کے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 978B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 20»