کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ دے اس کا بیان
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَعْطَى شَيْئًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : " إِذَا بَلَغْتَ وَادِيَ الْقُرَى فَشَأْنَكَ بِهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جہاد کے واسطے کوئی چیز دیتے تو فرماتے: جب پہنچ جائے تو وادیٔ قریٰ میں تو وہ چیز تیری ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 971
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9668، 9669، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2359، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34187، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 13»
حدیث نمبر: 972
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا أُعْطِيَ الرَّجُلُ الشَّيْءَ فِي الْغَزْوِ، فَيَبْلُغُ بِهِ رَأْسَ مَغْزَاتِهِ فَهُوَ لَهُ " .
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: جب کسی شخص کو جہاد کے واسطے کوئی چیز دی جائے، اور وہ دار الجہاد میں پہنچ جائے تو وہ چیز اس کی ہو گئی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 972
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9671، 9672، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2357، 2358، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34188، 34189، 34190، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 14»
حدیث نمبر: 972B1
وَسُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِهِ الْغَزْوَ، فَتَجَهَّزَ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مَنَعَهُ أَبَوَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا، فَقَالَ : لَا يُكَابِرْهُمَا، وَلَكِنْ يُؤَخِّرُ ذَلِكَ إِلَى عَامٍ آخَرَ، فَأَمَّا الْجِهَازُ، فَإِنِّي أَرَى أَنْ يَرْفَعَهُ، حَتَّى يَخْرُجَ بِهِ، فَإِنْ خَشِيَ أَنْ يَفْسُدَ بَاعَهُ، وَأَمْسَكَ ثَمَنَهُ حَتَّى يَشْتَرِيَ بِهِ مَا يُصْلِحُهُ لِلْغَزْوِ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يَجِدُ مِثْلَ جَهَازِهِ، إِذَا خَرَجَ، فَلْيَصْنَعْ بِجَهَازِهِ مَا شَاءَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نذر کی جہاد کی، جب تیار ہوا تو اس کے ماں باپ نے منع کیا یا صرف ماں یا باپ نے؟ جواب دیا کہ میرے نزدیک والدین کی نافرمانی نہ کرے اور جہاد کو سالِ آئندہ پر رکھے، اور جو سامان جہاد کا تیار کیا تھا اس کو رکھ چھوڑے، اگر اس کے خراب ہونے کا خوف ہو تو بیچ کر اس کی قیمت رکھ چھوڑے، تاکہ سالِ آئندہ اسی قیمت سے پھر سامان خرید کرے، البتہ اگر وہ شخص غنی ہو ایسا کہ جب نکلے سامان خرید کر سکے تو اس کو اختیار ہے، اس سامان کو جو چاہے ویسا کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 972B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 14»