حدیث نمبر: 928
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حَاضَتْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ " فَقِيلَ : إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَقَالَ : " فَلَا إِذًا "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ صفیہ کو حیض آیا تو بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمارے روکنے والی ہے؟“ لوگوں نے کہا: وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نہیں۔“
حدیث نمبر: 929
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ "، قُلْنَ : بَلَى، قَالَ : " فَاخْرُجْنَ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: یا رسول اللہ! صفیہ کو حیض آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید وہ ہم کو روکے گی، کیا اس نے طواف نہ کیا خانۂ کعبہ کا؟“ عورتوں نے کہا: ہاں، کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو۔“
حدیث نمبر: 930
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ " كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ وَمَعَهَا نِسَاءٌ تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ، فَأَفَضْنَ، فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَنْتَظِرْهُنَّ، فَتَنْفِرُ بِهِنَّ وَهُنَّ حُيَّضٌ إِذَا كُنَّ قَدْ أَفَضْنَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں عورتوں کے ساتھ اور خوف ہوتا ان کو حیض آ جانے کا، تو یوم النحر کو ان کو روانہ کر دیتیں طوافِ افاضہ کے واسطے۔ جب وہ طوافِ افاضہ کر چکتیں، اب اگر ان کو حیض آتا تو ان کے پاک ہونے کا انتظار نہ کرتیں، بلکہ چل کھڑی ہوتیں۔
حدیث نمبر: 931
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، فَقِيلَ لَهُ : قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا "، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا إِذًا "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا صفیہ کا، تو لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے: ان کو حیض آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید وہ ہمارے روکنے والی ہے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ طواف کر چکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 932
قَالَ مَالِك : قَالَ هِشَامٌ : قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ، وَنَحْنُ نَذْكُرُ ذَلِكَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ إِنْ كَانَ ذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُنَّ، وَلَوْ كَانَ الَّذِي يَقُولُونَ لَأَصْبَحَ بِمِنًى أَكْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلَافِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ كُلُّهُنَّ، قَدْ أَفَاضَتْ
علامہ وحید الزماں
کہا ہشام نے، کہا عروہ نے، کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ہم اس کا ذکر کرتے تھے، اگر پہلے سے عورتوں کو طواف کے لیے روانہ کر دینا مفید نہیں تو لوگ کیوں بھیج دیتے ہیں، اور اگر یہ لوگ جیسے سمجھتے ہیں کہ طوافِ وداع کے لیے ٹھہرنا لازم ہے، صحیح ہوتا تو منیٰ میں چھ ہزار عورتوں سے زیادہ حیض کی حالت میں پڑی ہوتیں طواف الوداع کے انتظار میں۔
حدیث نمبر: 933
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بِنْتَ مِلْحَانَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَاضَتْ أَوْ وَلَدَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَتْ .
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کو حیض آ گیا تھا، یا زچگی ہوئی تھی، بعد طوافِ افاضہ کے یوم النحر کو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ چلی گئیں۔
حدیث نمبر: 933B1
قَالَ مَالِك : وَالْمَرْأَةُ تَحِيضُ بِمِنًى تُقِيمُ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَا بُدَّ لَهَا مِنْ ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَتْ قَدْ أَفَاضَتْ، فَحَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، فَلْتَنْصَرِفْ إِلَى بَلَدِهَا، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَائِضِ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس عورت کو حیض آجائے منیٰ میں تو وہ ٹھہری رہے یہاں تک کہ وہ طوافِ افاضہ کرے، اور اگر طوافِ افاضہ کے بعد اس کو حیض آیا تو اپنے شہر کو چلی جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو رخصت پہنچی ہے حائضہ کے واسطے
حدیث نمبر: 933B2
قَالَ : وَإِنْ حَاضَتِ الْمَرْأَةُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ، فَإِنَّ كَرِيَّهَا يُحْبَسُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِمَّا يَحْبِسُ النِّسَاءَ الدَّمُ
علامہ وحید الزماں
اور اگر حیض آیا طوافِ افاضہ سے پہلے، پھر خون بند نہ ہوا تو اکثر مدت لگا لیں گے۔