حدیث نمبر: 920
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا الْبَدَّاحِ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ خَارِجِينَ عَنْ مِنًى، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عاصم بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اونٹ والوں کو رات اور کہیں بسر کرنے کی سوا منیٰ کے۔ وہ لوگ رمی کر لیں یوم النحر کو، پھر دوسرے دن یا تیسرے دن دونوں، پھر اگر رہیں تو چوتھے دن بھی رمی کریں۔
حدیث نمبر: 921
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْكُرُ، أَنَّهُ " أُرْخِصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ "، يَقُولُ : فِي الزَّمَانِ الْأَوَّلِ .
علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ زمانۂ اوّل میں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں) اونٹ چرانے والے کو اجازت تھی رات کو رمی کرنے کی۔
حدیث نمبر: 921B1
قَالَ مَالِك : تَفْسِيرُ الْحَدِيثِ الَّذِي أَرْخَصَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي تَأْخِيرِ رَمْيِ الْجِمَارِ، فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَإِذَا مَضَى الْيَوْمُ الَّذِي يَلِي يَوْمَ النَّحْرِ، رَمَوْا مِنَ الْغَدِ وَذَلِكَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلِ، فَيَرْمُونَ لِلْيَوْمِ الَّذِي مَضَى، ثُمَّ يَرْمُونَ لِيَوْمِهِمْ ذَلِكَ، لِأَنَّهُ لَا يَقْضِي أَحَدٌ شَيْئًا، حَتَّى يَجِبَ عَلَيْهِ، فَإِذَا وَجَبَ عَلَيْهِ، وَمَضَى كَانَ الْقَضَاءُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِنْ بَدَا لَهُمُ النَّفْرُ، فَقَدْ فَرَغُوا، وَإِنْ أَقَامُوا إِلَى الْغَدِ، رَمَوْا مَعَ النَّاسِ يَوْمَ النَّفْرِ الْآخِرِ، وَنَفَرُوا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عاصم بن عدی کی حدیث جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہے اونٹ چرانے والوں کو رمی جمار میں، اس کی تفسیر یہ ہے کہ وہ رمی کریں یوم النحر کو، پھر جب گیارہویں تاریخ گزر جائے تو بارہویں تاریخ کو گیارہویں کی رمی کر کے بارہویں کی رمی بھی کریں، پھر اگر بارہویں کو ان کا جانا ہو جائے تو بہتر ہے، ورنہ تیرہویں تاریخ کو اگر ٹھہریں تو لوگوں کے ساتھ رمی کر کے جائیں۔
حدیث نمبر: 922
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَةَ أَخٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، نُفِسَتْ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَتَخَلَّفَتْ هِيَ وَصَفِيَّةُ حَتَّى أَتَتَا مِنًى بَعْدَ أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، فَأَمَرَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ " أَنْ تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ حِينَ أَتَتَا، وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِمَا شَيْئًا " .
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ صفیہ بنت ابی عبید کی بھتیجی کو نفاس ہوا مردلفہ میں، تو وہ اور صفیہ ٹھہر گئیں یہاں تک کہ منیٰ میں جب پہنچیں آفتاب ڈوب گیا یوم النحر کو، تو حکم کیا ان دونوں کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کنکریاں مارنے کا جب آئیں وہ منیٰ میں، اور کوئی جزاء اُن پر لازم نہ کی۔
حدیث نمبر: 922B1
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك، عَمَّنْ نَسِيَ جَمْرَةً مِنَ الْجِمَارِ فِي بَعْضِ أَيَّامِ مِنًى حَتَّى يُمْسِيَ ؟ قَالَ : لِيَرْمِ أَيَّ سَاعَةٍ ذَكَرَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، كَمَا يُصَلِّي الصَّلَاةَ إِذَا نَسِيَهَا، ثُمَّ ذَكَرَهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا صَدَرَ، وَهُوَ بِمَكَّةَ أَوْ بَعْدَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَعَلَيْهِ الْهَدْيُ وَاجِبٌ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص بھول جائے رمی کرنا کسی جمرہ کی، کسی تاریخ میں منیٰ کے دنوں میں سے، یہاں تک کہ شام ہو جائے؟ تو جواب دیا کہ جب یاد آئے رات یا دن کو رمی کرے، جیسے نماز جو کوئی بھول جائے پھر یاد کرے رات یا دن کو تو پڑھ لے، البتہ اگر مکہ میں چلا آیا اس وقت یاد آیا، یا جب منیٰ سے نکل گیا اس وقت خیال آیا تو ہدی واجب ہوگی۔