حدیث نمبر: 913
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، " كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا حَتَّى يَمَلَّ الْقَائِمُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹھہرتے تھے جمرۂ اولیٰ اور وسطیٰ کے پاس بڑی دیر تک کہ تھک جاتا تھا کھڑا ہونے والا۔
حدیث نمبر: 914
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا، يُكَبِّرُ اللَّهَ، وَيُسَبِّحُهُ، وَيَحْمَدُهُ، وَيَدْعُو اللَّهَ، وَلَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جمرۂ اولیٰ اور وسطیٰ کے پاس ٹھہرے تھے بڑی دیر تک، تکبیر کہتے اور تسبیح اور تحمید پڑھتے اور دعا مانگتے اللہ جل جلالہُ سے، اور جمرۂ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے۔
حدیث نمبر: 915
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يُكَبِّرُ عِنْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کنکریاں مارتے وقت تکبیر کہتے ہر کنکری مارنے پر۔
حدیث نمبر: 915B1
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ، يَقُولُ: الْحَصَى الَّتِي يُرْمَى بِهَا الْجِمَارُ مِثْلُ حَصَى الْخَذْفِ . ¤ قَالَ مَالِك: وَأَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ قَلِيلًا أَعْجَبُ إِلَيَّ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے سنا بعض اہلِ علم سے، کہتے تھے: کنکریاں اتنی اتنی ہونی چاہئیں کہ دو انگلیوں سے اس کو مار سکیں۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ میرے نزدیک ذرا اس سے بڑی ہونی چاہئے۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ میرے نزدیک ذرا اس سے بڑی ہونی چاہئے۔
حدیث نمبر: 916
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ غَرَبَتْ لَهُ الشَّمْسُ مِنْ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَهُوَ بِمِنًى فَلَا يَنْفِرَنَّ، حَتَّى يَرْمِيَ الْجِمَارَ مِنَ الْغَدِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جس کو آفتاب ڈوب جائے بارہویں تاریخ منیٰ میں، تو وہ نہ جائے جب تک تیرہویں تاریخ کی رمی نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 917
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا إِذَا رَمَوْا الْجِمَارَ مَشَوْا ذَاهِبِينَ، وَرَاجِعِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ رَكِبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ لوگ جب رمی کرنے کو جاتے تو پیدل جاتے اور پیدل آتے، سب سے پہلے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ رمی کے واسطے سوار ہوئے۔
حدیث نمبر: 918
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، مِنْ أَيْنَ كَانَ الْقَاسِمُ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ؟ فَقَالَ : " مِنْ حَيْثُ تَيَسَّرَ " .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے پوچھا عبدالرحمٰن بن قاسم سے کہ قاسم بن محمد کہاں سے رمی کرتے تھے جمرۂ عقبہ کی؟ بولے: جہاں سے ممکن ہوتا۔
حدیث نمبر: 918B1
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك، هَلْ يُرْمَى عَنِ الصَّبِيِّ وَالْمَرِيضِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ، وَيَتَحَرَّى الْمَرِيضُ حِينَ يُرْمَى عَنْهُ، فَيُكَبِّرُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ، وَيُهَرِيقُ دَمًا، فَإِنْ صَحَّ الْمَرِيضُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، رَمَى الَّذِي رُمِيَ عَنْهُ، وَأَهْدَى وُجُوبًا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ لڑکے اور مریض کی طرف سے رمی کرنا درست ہے؟ جواب دیا: ہاں درست ہے، مگر مریض اپنے ڈیرے میں اس وقت تکبیر کہے وقت تاک کر، اور ایک قربانی کرے، پھر اگر وہ مریض ایامِ تشریق کے اندر اچھا ہو جائے تو اپنے آپ وہ رمی ادا کرے اور ہدی دے۔
حدیث نمبر: 918B2
. قَالَ مَالِك : لَا أَرَى عَلَى الَّذِي يَرْمِي الْجِمَارَ، أَوْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَهُوَ غَيْرُ مُتَوَضٍّئ إِعَادَةً وَلَكِنْ لَا يَتَعَمَّدُ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بے وضو کنکریاں مارے یا صفا مروہ کے بیچ میں دوڑے تو اس پر اعادہ لازم نہیں، مگر جان بوجھ کر ایسا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 919
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا تُرْمَى الْجِمَارُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: تینوں دنوں میں رمی بعد زوال کے کی جائے۔