کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: ایام تشریق کی تکبیروں کا بیان
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ : " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، خَرَجَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ شَيْئًا، فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ الثَّانِيَةَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ الثَّالِثَةَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِ حَتَّى يَتَّصِلَ التَّكْبِيرُ وَيَبْلُغَ الْبَيْتَ، فَيُعْلَمَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ خَرَجَ يَرْمِي "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید کو پہنچا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گیارھویں تاریخ کو نکلے جب کچھ دن چڑھا، تو تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی، پھر دوسرے دن نکلے جب کچھ دن نکلا اور تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی تاکہ ایک تکبیر دوسری تکبیر سے ملتے جلتے آواز بیت اللہ کو پہنچے اور لوگ جانیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رمی کرنے کو نکلے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 907
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6267، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 205»
حدیث نمبر: 907B1
. قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا، أَنَّ التَّكْبِيرَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ دُبُرَ الصَّلَوَاتِ، وَأَوَّلُ ذَلِكَ تَكْبِيرُ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ مَعَهُ دُبُرَ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، وَآخِرُ ذَلِكَ تَكْبِيرُ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ مَعَهُ دُبُرَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، ثُمَّ يَقْطَعُ التَّكْبِيرَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ ایامِ تشریق میں ہر نماز کے بعد تکبیر کہی جائے، اور شروع کی جائے تکبیر یوم النحر میں ظہر کی نماز کے بعد سے، اور ختم ہو تیرھویں تاریخ کی فجر پر، اور امام تکبیر کہے اور لوگ اس کے ساتھ تکبیر کہیں جب نماز سے فارغ ہوں، اور یہ تکبیر مرد اور عورت سب پر واجب ہے خواہ جماعت سے نماز پڑھیں یا اکیلے پڑھیں، منیٰ میں ہوں یا اور ملکوں میں، اور حجاج بعید کو چاہیے کہ منیٰ میں امام الحاج اور حجاج قریب امام کی پیروی کریں رمی جمار و تکبیرات میں، کیونکہ اس تقدیر پر جب وہ پڑھیں گے اور احرام تمام ہو جائے گا تو سب حجاج «حل» میں برابر رہیں گے۔ یعنی مناسک حج سے فارغ ہونے میں یہ سب برابر رہیں گے، مگر جو لوگ حاجی نہیں ہیں وہ لوگ حجاج کی پیروی نہ کریں مگر تکبیرات تشریق میں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 907B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 205»
حدیث نمبر: 907B2
. قَالَ مَالِك : وَالتَّكْبِيرُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مَنْ كَانَ فِي جَمَاعَةٍ، أَوْ وَحْدَهُ . بِمِنًى أَوْ بِالْآفَاقِ كُلُّهَا وَاجِبٌ، وَإِنَّمَا يَأْتَمُّ النَّاسُ فِي ذَلِكَ بِإِمَامِ الْحَاجِّ وَبِالنَّاسِ بِمِنًى، لِأَنَّهُمْ إِذَا رَجَعُوا، وَانْقَضَى الْإِحْرَامُ، ائْتَمُّوا بِهِمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَهُمْ فِي الْحِلِّ، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ حَاجًّا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتَمُّ بِهِمْ إِلَّا فِي تَكْبِيرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ . قَالَ مَالِك : الْأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کلام اللہ میں ایامِ تشریق مراد ہیں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 907B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 205»