کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: منیٰ میں نماز کے بیان میں
حدیث نمبر: Q904
قَالَ مَالِكٌ : فِي أَهْلِ مَكَّةَ. إِنَّهُمْ يُصَلُّونَ بِمِنًى إِذَا حَجُّوا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ. حَتَّى يَنْصَرِفُوا إِلَى مَكَّةَ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکہ کے رہنے والے جب حج کو جائیں تو منیٰ میں قصر کریں، دو دو رکعتیں پڑھیں جب تک حج سے لوٹیں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: Q904
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 199»
حدیث نمبر: 904
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَاةَ الرُّبَاعِيَّةَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّاهَا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّاهَا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَنَّ عُثْمَانَ صَلَّاهَا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ شَطْرَ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعتیں نماز کی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں (یعنی قصر کیا)۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہاں دو رکعتیں پڑھیں، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی دو رکعتیں وہاں پڑھیں، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی دو رکعتیں پڑھیں منیٰ میں آدھی خلافت تک، پھر چار پڑھنے لگے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 904
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وله شواهد من حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، فأما حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1082، 1655، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 694، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1452، و ابن ماجه : 1071، والدارمي: 1875، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6255، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2758، 3893، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2963، والطبراني فى "الكبير"، 13260، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 201»
حدیث نمبر: 905
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ : " يَا أَهْلَ مَكَّةَ، أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ "، ثُمَّ صَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى، وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ شَيْئًا
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب مکہ میں آئے تو دو رکعتیں پڑھ کر لوگوں سے کہا: اے مکہ والو! تم اپنی نماز پوری کرو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر منیٰ میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں لیکن ہم کو یہ نہیں پہنچا کہ وہاں کچھ کہا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 905
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2813، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5411، 5412، 5584، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4369، 4370، 4371، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3881، 3882، 3883، 3884، 3885، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2415، 2416، 2417، 2418، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 202»
حدیث نمبر: 906
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى لِلنَّاسِ بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ : " يَا أَهْلَ مَكَّةَ، أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ "، ثُمَّ صَلَّى عُمَرُ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى، وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ شَيْئًا .
علامہ وحید الزماں
سیدنا اسلم عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں دو رکعتیں پڑھ کر لوگوں سے کہا: اے مکہ والو! تم اپنی نماز پوری کرو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر منیٰ میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں لیکن ہم کو یہ نہیں پہنچا کہ وہاں کچھ کہا ہو۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 906
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح،، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 203»
حدیث نمبر: 906B1
سُئِلَ مَالِك، عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ، كَيْفَ صَلَاتُهُمْ بِعَرَفَةَ، أَرَكْعَتَانِ أَمْ أَرْبَعٌ ؟ وَكَيْفَ بِأَمِيرِ الْحَاجِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ؟ أَيُصَلِّي الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ بِعَرَفَةَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ رَكْعَتَيْنِ ؟ وَكَيْفَ صَلَاةُ أَهْلِ مَكَّةَ فِي إِقَامَتِهِمْ ؟ فَقَالَ مَالِك : يُصَلِّي أَهْلُ مَكَّةَ، بِعَرَفَةَ، وَمِنًى مَا أَقَامُوا بِهِمَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ يَقْصُرُونَ الصَّلَاةَ، حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَى مَكَّةَ، قَالَ : وَأَمِيرُ الْحَاجِّ أَيْضًا، إِذَا كَانَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، قَصَرَ الصَّلَاةَ بِعَرَفَةَ وَأَيَّامَ مِنًى ۔
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اہلِ مکہ عرفات میں چار رکعتیں پڑھیں یا دو رکعتیں؟ اور امیر الحاج بھی اگر مکہ کا رہنے والا ہو تو وہ ظہر اور عصر کی عرفات میں چار رکعتیں پڑھے یا دو رکعتیں؟ اور اہلِ مکہ جب تک منیٰ میں رہیں تو قصر کریں یا نہیں؟ تو جواب دیا کہ اہلِ مکہ منیٰ اور عرفات میں جب تک رہیں دو دو رکعتیں پڑھیں اور قصر کرتے رہیں مکہ میں پہنچنے تک، اور امیر الحج اگر مکہ کا رہنے والا ہو تو وہ بھی قصر کرے عرفہ اور منیٰ میں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 906B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 203»
حدیث نمبر: 906B2
قَالَ مَالِك : وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ سَاكِنًا بِمِنًى مُقِيمًا بِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُتِمُّ الصَّلَاةَ بِمِنًى، وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ سَاكِنًا بِعَرَفَةَ مُقِيمًا بِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُتِمُّ الصَّلَاةَ بِهَا أَيْضًا
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی منیٰ کا رہنے والا ہو تو وہ قصر نہ کرے، بلکہ چار پوری پڑھے جب تک منیٰ میں رہے، اسی طرح اگر کوئی عرفات کا رہنے والا ہو تو وہ بھی وہاں قصر نہ کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 906B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 204»