کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: منیٰ میں آٹھویں تاریخ کی نمازوں کا بیان اور جمعہ منیٰ اور عرفہ میں آ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 899
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُو إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَى عَرَفَةَ " .
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھتے تھے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی منیٰ میں۔ پھر صبح کو جب آفتاب نکل آتا تو عرفات کو جاتے۔
حدیث نمبر: 899B1
قَالَ مَالِك : وَالْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الْإِمَامَ لَا يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فِي الظُّهْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَأَنَّهُ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَأَنَّ الصَّلَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِنَّمَا هِيَ ظُهْرٌ، وَإِنْ وَافَقَتِ الْجُمُعَةَ، فَإِنَّمَا هِيَ ظُهْرٌ، وَلَكِنَّهَا قَصُرَتْ مِنْ أَجْلِ السَّفَرِ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ امام ظہر کی نماز میں عرفات میں قرأت کو جہر سے نہ پڑھے، اور خطبہ پڑھے عرفہ کے روز، اور نماز عرفہ کی درحقیقت وہ ظہر ہے، مگر اس میں قصر ہو گیا سفر کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 899B2
قَالَ مَالِك فِي إِمَامِ الْحَاجِّ إِذَا وَافَقَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ، أَوْ يَوْمَ النَّحْرِ، أَوْ بَعْضَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ : إِنَّهُ لَا يُجَمِّعُ فِي شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْأَيَّامِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عرفہ کے دن جمعہ پڑے، یا یوم النحر یا ایام تشریق کو جمعہ آ پڑے تو ان دنوں میں نماز جمعہ کی نہ پڑھی جائے۔