حدیث نمبر: 890
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ، لَمْ يَأْخُذْ مِنْ رَأْسِهِ وَلَا مِنْ لِحْيَتِهِ شَيْئًا، حَتَّى يَحُجَّ " . قَالَ مَالِك : لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رمضان کے روزوں سے فارغ ہوتے اور حج کا قصد ہوتا تو سر اور داڑھی کے بال نہ لیتے یہاں تک کہ حج کرتے۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یہ امر سب لوگوں پر واجب نہیں ہے۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یہ امر سب لوگوں پر واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 891
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا حَلَقَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ وَشَارِبِهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حلق کرتے حج یا عمرہ میں تو اپنی داڑھی اور مونچھ کے بال لیتے۔
حدیث نمبر: 892
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ : إِنِّي أَفَضْتُ وَأَفَضْتُ مَعِي بِأَهْلِي، ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى شِعْبٍ، فَذَهَبْتُ لِأَدْنُوَ مِنْ أَهْلِي، فَقَالَتْ : إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ مِنْ شَعَرِي بَعْدُ، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعَرِهَا بِأَسْنَانِي، ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا، فَضَحِكَ الْقَاسِمُ ، وَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهَا بِالْجَلَمَيْنِ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا قاسم بن محمد کے پاس اور اس نے کہا کہ میں نے طوافِ افاضہ کیا اور میرے ساتھ میری بیوی نے بھی طوافِ افاضہ کیا۔ پھر میں ایک گھاٹی کی طرف گیا تاکہ صحبت کروں اپنی بیوی سے، وہ بولی کہ میں نے ابھی بال نہیں کتروائے، میں نے دانتوں سے اس کے بال کترے اور اس سے صحبت کی۔ قاسم بن محمد ہنسے اور کہا کہ حکم کر اپنی عورت کو کہ بال کترے قینچی سے۔
حدیث نمبر: 892B
قَالَ مَالِك : أَسْتَحِبُّ فِي مِثْلِ هَذَا أَنْ يُهْرِقَ دَمًا، وَذَلِكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا، فَلْيُهْرِقْ دَمًا "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک اولیٰ یہ ہے کہ وہ مرد ایک قربانی کرے، کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص ارکانِ حج سے کوئی رکن بھول جائے، تو وہ ایک قربانی کرے۔
حدیث نمبر: 893
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ، يُقَالُ لَهُ : الْمُجَبَّرُ، قَدْ أَفَاضَ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ جَهِلَ ذَلِكَ، " فَأَمَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَرْجِعَ، فَيَحْلِقَ، أَوْ يُقَصِّرَ، ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَيُفِيضَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے عزیزوں میں سے ایک شخص سے ملے جس کا نام مجبر تھا (وہ بھتیجے تھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے، سیدنا عبدالرحمٰن بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے) انہوں نے طوافِ افاضہ کر لیا تھا اور نہ حلق کیا نہ قصر نادانی سے، تو حکم کیا ان کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوٹ جانے کا اور حلق یا قصر کر کے اور طواف الزیارۃ دوبارہ کرنے کا۔
حدیث نمبر: 894
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ دَعَا بِالْجَلَمَيْنِ، فَقَصَّ شَارِبَهُ، وَأَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ، وَقَبْلَ أَنْ يُهِلَّ مُحْرِمًا "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب ارادہ کرتے احرام کا تو قینچی منگاتے اور مونچھ اور داڑھی کے بال لیتے قبل سواری کے اور قبل لبیک کہنے کے احرام باندھ کر۔