حدیث نمبر: 876
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يُقَدِّمُ أَهْلَهُ وَصِبْيَانَهُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى، حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمِنًى، وَيَرْمُوا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سالم اور حضرت عبیداللہ جو دو بیٹے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ان سے روایت ہے کہ اُن کے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آگے روانہ کر دیتے تھے عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے منیٰ کو تاکہ نماز صبح کی منیٰ میں پڑھ کر لوگوں کے آنے سے اوّل کنکریاں مار لیں۔
حدیث نمبر: 877
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ : جِئْنَا مَعَ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ، قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهَا : لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ، فَقَالَتْ : " قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكِ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی آزاد لونڈی سے روایت ہے کہ ہم سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں آئے اندھیرے منہ تو میں نے کہا کہ ہم منیٰ میں اندھیرے منہ آئے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم ایسا ہی کرتے تھے اس شخص کے ساتھ جو تجھ سے بہتر تھے۔
حدیث نمبر: 878
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، " كَانَ يُقَدِّمُ نِسَاءَهُ وَصِبْيَانَهُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى " .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اپنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف (پہلے ہی) آگے روانہ کردیتے تھے۔
حدیث نمبر: 878B
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُ رَمْيَ الْجَمْرَةِ، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، وَمَنْ رَمَى، فَقَدْ حَلَّ لَهُ النَّحْرُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے سنا بعض اہلِ علم سے، وہ مکروہ جانتے تھے کنکریاں مارنا قبل طلوعِ فجر کے یوم النحر سے، اور جس نے ماریں تو نحر اس کو حلال ہوگیا۔
حدیث نمبر: 879
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَرَى أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، بِالْمُزْدَلِفَةِ " تَأْمُرُ الَّذِي يُصَلِّي لَهَا وَلِأَصْحَابِهَا الصُّبْحَ، يُصَلِّي لَهُمُ الصُّبْحَ، حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، ثُمَّ تَرْكَبُ، فَتَسِيرُ إِلَى مِنًى، وَلَا تَقِفُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت منذر دیکھتی تھیں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کو مزدلفہ میں، حکم کرتی تھیں اس شخص کو جو امامت کرتا تھا اُن کی اور ان کے ساتھیوں کی نماز میں کہ نماز پڑھائے صبح کی فجر نکلتے ہی، پھر سوار ہو کر منیٰ کو آتی تھیں اور وقوف نہ کرتی تھیں۔