کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے
حدیث نمبر: 865
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، كَانَ يَقُولُ : " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ : شَاةٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ «﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾» سے مراد ایک بکری ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 865
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 301، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8896، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12938، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 158»
حدیث نمبر: 866
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ : " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ : شَاةٌ " .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: «﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾» سے ایک بکری مراد ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 866
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح لغيره
تخریج حدیث «موقوف صحيح لغيره، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8896، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 301، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 159»
حدیث نمبر: 866B1
قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ، لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ، يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ، أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا، فَمِمَّا يُحْكَمُ بِهِ فِي الْهَدْيِ شَاةٌ، وَقَدْ سَمَّاهَا اللَّهُ هَدْيًا، وَذَلِكَ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، وَكَيْفَ يَشُكُّ أَحَدٌ فِي ذَلِكَ ؟ وَكُلُّ شَيْءٍ لَا يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِبَعِيرٍ أَوْ بَقَرَةٍ، فَالْحُكْمُ فِيهِ شَاةٌ، وَمَا لَا يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِشَاةٍ فَهُوَ كَفَّارَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ إِطْعَامِ مَسَاكِينَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ روایت بہت پسند ہے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: ”اے ایمان والو! مت مارو شکار جب تم احرام باندھے ہو، اور جو مارے شکار تم میں سے قصداً تو اس پر جزاء ہے مثل اس جانور کے جو مارا اس نے۔ حکم لگا دیں اس کا دو مرد دیانت دار تم میں سے، یہ جزاء ہدی ہو جو خانۂ کعبہ میں پہنچے، یا کفارہ ہو مسکینوں کا کھلانا، یا برابر اس کے روزے، تاکہ چکھے وبال اپنے کام کا۔“ سو کبھی جانور کا بدلہ بکری بھی ہوتی ہے، اور اللہ جل جلالہُ نے اسی کو ہدی کہا۔ اس مسئلہ میں ہمارے نزدیک کچھ اختلاف نہیں ہے، اور کیونکر کوئی اس میں شک کرے گا، اس واسطے کہ جو جانور اونٹ یا بیل کے برابر نہیں اس کی جزاء ایک بکری ہی ہو گی، اور جو ایک بکری سے کم ہو تو اس میں کفارہ ہو گا، روزے رکھے یا مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 866B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 159»
حدیث نمبر: 867
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: «﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾» سے ایک بکری یا گائے مراد ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 867
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 299، 317، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8984، 8986، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2742، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12927، 12930، 12939، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1100، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 160»
حدیث نمبر: 868
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى مَكَّةَ، قَالَتْ : فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَكَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا، فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ : " أَمَعَكِ مِقَصَّانِ ؟ " فَقُلْتُ : لَا، فَقَالَتْ : " فَالْتَمِسِيهِ لِي " فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّى جِئْتُ بِهِ، فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے، کہا ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی جس کا نام رقیہ تھا، مجھ سے کہتی تھی کہ میں نکلی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کے ساتھ مکہ کو، تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی عمرہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی، تو طواف کیا خانۂ کعبہ کا اور سعی کی درمیان میں صفا اور مروہ کے، پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ عمرہ نے کہا: کہیں سے ڈھونڈ کر لا۔ سو میں ڈھونڈ کر لائی، عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں، جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 868
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 161»