حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ، قَالَتْ : فَطُفْتُ رَاكِبَةً بَعِيرِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ ، وَهُوَ يَقْرَأُ : " بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کی، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کے پیچھے سوار ہو کر تو طواف کر لے۔“ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ایک گوشے کی طرف خانۂ کعبہ کے، اور پڑھ رہے تھے سورہ «﴿وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ﴾» ۔
حدیث نمبر: 824
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ الْأَسْلَمِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِيهِ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَقْبَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَاب الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ ، فَرَجَعْتُ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَاب الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ ، فَرَجَعْتُ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَاب الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " إِنَّمَا ذَلِكِ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَاغْتَسِلِي ، ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ، ثُمَّ طُوفِي "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوماعز اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ، اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے اُن سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانۂ کعبہ کے طواف کا، جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا، سو میں چلی گئی، جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی، جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا، تو میں چلی گئی، جب خون موقوف ہوا پھر آئی، جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔
حدیث نمبر: 825
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ " كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ مُرَاهِقًا ، خَرَجَ إِلَى عَرَفَةَ ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ يَطُوفُ بَعْدَ أَنْ يَرْجِعَ " . قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ وَاسِعٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . وَسُئِلَ مَالِك ، هَلْ يَقِفُ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ الْوَاجِبِ عَلَيْهِ ، يَتَحَدَّثُ مَعَ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ : لَا أُحِبُّ ذَلِكَ لَهُ . قَالَ مَالِك : لَا يَطُوفُ أَحَدٌ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب مکہ میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو چلے جاتے قبل طواف اور سعی کے، پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے۔
حدیث نمبر: 825B1
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ یہ (طواف قدوم کا ترک کرنا تنگئی وقت کے پیش نظر ) جائز ہے۔ ان شاء اللہ
حدیث نمبر: 825B2
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ طواف واجب کرنے میں کسی سے باتیں کرنے کو ٹھہر جانا درست ہے؟ جواب دیا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 825B3
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فر مایا کہ کوئی طواف نہ کرے خانۂ کعبہ کا اور نہ سعی صفا و مروہ کے درمیان میں مگر باوضو۔