حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَا يَصْدُرَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ ، حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی حاجی مکہ سے نہ لوٹے یہاں تک کہ طواف کر لے خانۂ کعبہ کا، کیونکہ آخری عبادت یہی طواف کرنا خانۂ کعبہ کا ہے۔
حدیث نمبر: 820B1
قَالَ مَالِك فِي قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، إِنَّ ذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ سورة الحج آية 32 وَقَالَ : ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 33 فَمَحِلُّ الشَّعَائِرِ كُلِّهَا ، وَانْقِضَاؤُهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آخری عبادت طواف ہے خانۂ کعبہ کا، اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے: ”جو شخص تعظیم کرے اللہ جل جلالہُ کی نشانیوں کی تو یہ دلوں کے خوف کی وجہ سے ہے۔“ پھر فرماتا ہے: ”بازگشت ان کی خانۂ کعبہ کی طرف ہے۔“ تو تمام ارکان اور عباداتِ حج کی انتہاء خانۂ کعبہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 821
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " رَدَّ رَجُلًا مِنْ مَرِّ الظَّهْرَانِ لَمْ يَكُنْ وَدَّعَ الْبَيْتَ حَتَّى وَدَّعَ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مر الظہران سے (ایک موضع ہے مکہ سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر) پھیر دیا، اس واسطے کہ اس نے طواف الوداع نہیں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 822
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَفَاضَ فَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّهُ ، فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ حَبَسَهُ شَيْءٌ ، فَهُوَ حَقِيقٌ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ، وَإِنْ حَبَسَهُ شَيْءٌ أَوْ عَرَضَ لَهُ ، فَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ جس شخص نے طواف الافاضہ (طواف الزیارہ) ادا کیا اس کا حج اللہ نے پورا کر دیا۔ اب اگر اس کا کوئی امر مانع نہیں آیا تو چاہیے کہ رخصت کے وقت طواف الوداع کرے، اور اگر کوئی مانع یا عارضہ درپیش ہو تو حج تو پورا ہو چکا۔
حدیث نمبر: 822B1
قَالَ مَالِك : وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا جَهِلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ، حَتَّى صَدَرَ لَمْ أَرَ عَلَيْهِ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا ، فَيَرْجِعَ فَيَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفَ إِذَا كَانَ قَدْ أَفَاضَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کو یہ مسئلہ طواف الوداع کا معلوم نہ تھا، اور وہ بدون طواف الوداع کیے ہوئے مکہ سے واپس چلا گیا، تو اس پر لوٹ آنا لازم نہیں، مگر اس صورت میں کہ قریب ہو مکہ سے، تو لوٹ آئے اور طواف کرے بشرطیکہ طواف الزیارۃ کر چکا ہو۔