حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ : الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں محرم کو ان کا قتل منع نہیں ہے: کوا، اور چیل، اور بچھو، اور چوہا، اور کٹنا کتا۔“
حدیث نمبر: 788
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ : الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں کہ جو کوئی ان کو احرام کی حالت میں مار ڈالے تو کچھ گناہ نہیں ہے، ایک بچھو، دوسرے چوہا، تیسرے کٹنا کتا، چوتھے چیل، پانچواں کوا۔“
حدیث نمبر: 789
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ناپاک ہیں، قتل کئے جائیں گے حِل اور حرم میں، چوہا، اور بچھو، اور کوا، اور چیل، اور کٹنا کتا۔“
حدیث نمبر: 790
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ فِي الْحَرَمِ "
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم کیا سانپوں کے مارنے کا حرم میں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کٹنے کتے سے، جس کے مارنے کا حرم میں حکم ہوا ہے، مراد یہ ہے کہ جو جانور لوگوں کو کاٹے یا ان پر حملہ کرے، یا ڈرائے، جیسے شیر اور چیتا اور ریچھ اور بھیڑیا، اس کو مار ڈالنا درست ہے اور وہ کٹنے کتے میں داخل ہے، البتہ جو درندے حملہ نہیں کرتے جیسے بجو اور لومڑی اور بلی، اور جو ان کے مشابہ ہیں، ان کو محرم نہ مارے، اگر مارے گا تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو درندے نقصان پہنچاتے ہیں محرم ان کو نہ مارے مگر جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیا ہے کوے اور چیل کو، اگر ان دونوں کے سوا اور کسی پرندہ کو محرم مارے گا تو اس پر جزاء لازم ہوگی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کٹنے کتے سے، جس کے مارنے کا حرم میں حکم ہوا ہے، مراد یہ ہے کہ جو جانور لوگوں کو کاٹے یا ان پر حملہ کرے، یا ڈرائے، جیسے شیر اور چیتا اور ریچھ اور بھیڑیا، اس کو مار ڈالنا درست ہے اور وہ کٹنے کتے میں داخل ہے، البتہ جو درندے حملہ نہیں کرتے جیسے بجو اور لومڑی اور بلی، اور جو ان کے مشابہ ہیں، ان کو محرم نہ مارے، اگر مارے گا تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو درندے نقصان پہنچاتے ہیں محرم ان کو نہ مارے مگر جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیا ہے کوے اور چیل کو، اگر ان دونوں کے سوا اور کسی پرندہ کو محرم مارے گا تو اس پر جزاء لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 790B1
قَالَ مَالِك فِي الْكَلْبِ الْعَقُورِ الَّذِي أُمِرَ بِقَتْلِهِ فِي الْحَرَمِ : إِنَّ كُلَّ مَا عَقَرَ النَّاسَ وَعَدَا عَلَيْهِمْ وَأَخَافَهُمْ ، مِثْلُ الْأَسَدِ وَالنَّمِرِ وَالْفَهْدِ وَالذِّئْبِ فَهُوَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَأَمَّا مَا كَانَ مِنَ السِّبَاعِ لَا يَعْدُو مِثْلُ الضَّبُعِ وَالثَّعْلَبِ وَالْهِرِّ وَمَا أَشْبَهَهُنَّ مِنَ السِّبَاعِ فَلَا يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ ، فَإِنْ قَتَلَهُ فَدَاهُ
حدیث نمبر: 790B2
وَأَمَّا مَا ضَرَّ مِنَ الطَّيْرِ ، فَإِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَقْتُلُهُ إِلَّا مَا سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَإِنْ قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَيْئًا مِنَ الطَّيْرِ سِوَاهُمَا فَدَاهُ