کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جس شکار کا محرم کو کھانا درست نہیں ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي ، قَالَ : " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تحفہ بھیجا ایک گورخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابواء یا ودّان میں تھے (دونوں مقاموں کے نام ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھیر دیا۔ سیدنا صعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کا حال دیکھا (یعنی پھیر دینے کی وجہ سے مجھ کو ملال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کا حال دیکھ کر دریافت کر لیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس واسطے پھیر دیا کہ ہم احرام باندھے ہیں۔“
حدیث نمبر: 785
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ قَدْ غَطَّى وَجْهَهُ بِقَطِيفَةِ أُرْجُوَانٍ ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَحْمِ صَيْدٍ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوا " ، فَقَالُوا : أَوَ لَا تَأْكُلُ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنَّمَا صِيدَ مِنْ أَجْلِي "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو عرج میں گرمی کے روز انہوں نے ڈھانپ لیا تھا منہ اپنا سرخ کمبل سے، اتنے میں شکار کا گوشت آیا، تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: کھاؤ۔ انہوں نے کہا: آپ نہیں کھاتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری مثل نہیں ہوں، میرے واسطے تو شکار ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 786
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ : " يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا هِيَ عَشْرُ لَيَالٍ فَإِنْ تَخَلَّجَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ " تَعْنِي أَكْلَ لَحْمِ الصَّيْدِ
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت عروہ بن زبیر سے کہ اے بیٹے میرے بھائی کے! یہ دس راتیں ہیں احرام کی۔ اگر تیرے جی میں شک ہو تو بالکل چھوڑ دے شکار کا گوشت۔
حدیث نمبر: 786B1
قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ الْمُحْرِمِ يُصَادُ مِنْ أَجْلِهِ صَيْدٌ ، فَيُصْنَعُ لَهُ ذَلِكَ الصَّيْدُ فَيَأْكُلُ مِنْهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَجْلِهِ صِيدَ : فَإِنَّ عَلَيْهِ جَزَاءَ ذَلِكَ الصَّيْدِ كُلِّهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی محرم کے واسطے شکار کیا جائے اور وہ یہ جان کر کھائے کہ میرے واسطے شکار کیا گیا ہے تو اس پر اس کی جزاء لازم ہے۔
حدیث نمبر: 786B2
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنِ الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَى أَكْلِ الْمَيْتَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، أَيَصِيدُ الصَّيْدَ فَيَأْكُلُهُ أَمْ يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ ؟ فَقَالَ : بَلْ يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمْ يُرَخِّصْ لِلْمُحْرِمِ فِي أَكْلِ الصَّيْدِ ، وَلَا فِي أَخْذِهِ فِي حَالٍ مِنَ الْأَحْوَالِ ، وَقَدْ أَرْخَصَ فِي الْمَيْتَةِ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص مضطر ہو جائے اس درجہ کو کہ مردہ اس پر حلال ہو جائے اور وہ احرام باندھے ہو تو شکار کر کے کھائے یا مردہ کھائے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ مردہ کھائے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ نے محرم کو شکار کی رخصت نہیں دی کسی حال میں، اور مردہ کھانے کی رخصت دی ہے بر وقتِ ضرورت کے۔
حدیث نمبر: 786B3
قَالَ مَالِك : وَأَمَّا مَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ أَوْ ذَبَحَ مِنَ الصَّيْدِ ، فَلَا يَحِلُّ أَكْلُهُ لِحَلَالٍ وَلَا لِمُحْرِمٍ ، لِأَنَّهُ لَيْسَ بِذَكِيٍّ كَانَ خَطَأً أَوْ عَمْدًا فَأَكْلُهُ لَا يَحِلُّ ، وَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس شکار کو مارا یا ذبح کیا تو اس کا کھانا کسی کو درست نہیں، نہ محرم کو نہ حلال کو، اس لیے کہ وہ مذبوح نہیں ہوا۔ برابر ہے کہ بھولے سے مارا ہو یا قصد سے، کسی صورت میں درست نہیں۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے یہ مسئلہ بہت سے لوگوں سے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 786B4
وَالَّذِي يَقْتُلُ الصَّيْدَ ثُمَّ يَأْكُلُهُ إِنَّمَا عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ ، مِثْلُ مَنْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو شخص شکار مار کر کھا لے تو اس پر ایک ہی کفارہ ہوگا مثل اس شخص کے جو شکار مارے لیکن کھائے نہیں۔