حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ ، وَرَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجَاهُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ "
علامہ وحید الزماں
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مولیٰ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اور ایک شخص انصاری کو بھیجا۔ اُن دونوں نے نکاح کر دیا اُن کا سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے قبل نکلنے کے۔
حدیث نمبر: 771
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ ، وَهُمَا مُحْرِمَانِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ، بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْكِحِ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے بھیجا اُن کو سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس، اور سیدنا ابان رضی اللہ عنہ اُن دنوں میں امیر تھے حاجیوں کے، اور دونوں احرام باندھے ہوئے تھے۔ کہلا بھیجا کہ میں چاہتا ہوں کہ نکاح کروں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے، سو تم بھی آؤ۔ سیدنا ابان رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: ”نہ نکاح کرے محرم اپنا اور نہ غیر کا، اور نہ پیغام بھیجے نکاح کا۔“
حدیث نمبر: 772
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ طَرِيفًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَهُوَ مُحْرِمٌ " فَرَدَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِكَاحَهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ اُن کے باپ طریف نے نکاح کیا ایک عورت سے احرام میں، تو باطل کردیا اس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے۔
حدیث نمبر: 773
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: نہ نکاح کرے محرم اور نہ پیغام بھیجے اپنا اور نہ غیر کا۔
حدیث نمبر: 774
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلُوا عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ ، فَقَالُوا : " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ " . ¤ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ الْمُحْرِمِ : إِنَّهُ يُرَاجِعُ امْرَأَتَهُ إِنْ شَاءَ إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سعید بن مسیّب اور سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا محرم کے نکاح کا، تو ان سب نے کہا کہ محرم نہ نکاح کرے اپنا نہ پرایا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ محرم اپنی عورت سے رجعت کر سکتا ہے اگر چاہے، جب وہ عورت عدت میں ہو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ محرم اپنی عورت سے رجعت کر سکتا ہے اگر چاہے، جب وہ عورت عدت میں ہو۔