کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جس صورت میں آدمی متمتع نہ ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 766Q1
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے عمرہ کیا شوال یا ذیقعدہ میں یا ذی الحجہ میں، پھر لوٹ آیا اپنے ملک کو، پھر حج کیا اسی سال جاکر، تو اس پر ہدی لازم نہ ہوگی، کیونکہ وہ متمتع نہیں ہے، بلکہ ہدی اس پر لازم ہے جو حج کے مہینوں میں عمرہ کر کے مکہ میں ٹھہرا رہے حج تک، پھر حج کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 766Q1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 63»
حدیث نمبر: 766Q2
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو شخص اور ملک میں سے آن کر مکہ میں رہنے لگا، اس نے پھر حج کے مہینوں میں عمرہ کیا، بعد اس کے حج کیا اور وہ متمتع نہ ہو گا، نہ اس پر ہدی ہے نہ روزے ہیں۔ بلکہ وہ اہلِ مکہ کی مانند ہے جبکہ وہاں کا رہنا اس نے اختیار کیا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 766Q2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 63»
حدیث نمبر: 766Q3
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص مکہ کا باشندہ جہاد کے واسطے یا اور کسی کام کو سفرمیں گیا، پھر لوٹ کر مکہ میں آیا، اور اس کی نیت وہیں رہنے کی ہے، خواہ اس کے گھر والے وہاں ہوں یا نہ ہوں، اور وہ عمرہ کا احرام باندھ کر حج کے مہینوں میں گیا ہے۔ پھر اس نے بعد عمرہ کے وہیں حج بھی کیا برابر ہے کہ اس نے عمرہ کا احرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے میقات سے باندھا ہو یا اور کسی میقات سے تو وہ متمتع ہے یا نہیں ہے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس پر متمتع کی طرح ہدی اور روزے واجب نہیں، کیونکہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [البقرة: 196]
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 766Q3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 63»