کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: اہلِ مکہ کے احرام کا اور جو لوگ مکہ میں ہوں اور ملک والے اُن کے بھی احرام کا بیان
حدیث نمبر: 751
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " يَا أَهْلَ مَكَّةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ يَأْتُونَ شُعْثًا وَأَنْتُمْ مُدَّهِنُونَ أَهِلُّوا إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے مکہ والو! لوگ تو بال بکھرے ہوئے پریشان یہاں آتے ہیں اور تم تیل لگائے ہوتے ہو، جب چاند دیکھو ذی الحجہ کا تو تم بھی احرام باندھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 751
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 15242، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 49»
حدیث نمبر: 752
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَقَامَ بِمَكَّةَ تِسْعَ سِنِينَ ، وَهُوَ يُهِلُّ بِالْحَجِّ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نو برس مکے میں رہے، جب چاند دیکھتے ذی الحجہ کا تو احرام باندھ لیتے اور حضرت عروہ بن زبیر بھی ایسا ہی کرتے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 752
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 15006، 15240، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 50»
حدیث نمبر: 752B1
قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا يُهِلُّ أَهْلُ مَكَّةَ وَغَيْرُهُمْ بِالْحَجِّ إِذَا كَانُوا بِهَا ، وَمَنْ كَانَ مُقِيمًا بِمَكَّةَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو لوگ مکہ کے رہنے والے ہیں یا مکہ میں پہلے سے مقیم ہیں مگر وہاں کے باشندے نہیں تو وہ حرم سے احرام باند ھیں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 752B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 50»
حدیث نمبر: 752B2
قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : وَمَنْ أَهَلَّ مِنْ مَكَّةَ بِالْحَجِّ فَلْيُؤَخِّرِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى وَكَذَلِكَ صَنَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو شخص مکہ سے احرام حج کا باندھے تو وہ طواف اور سعی نہ کرے جب تک منیٰ سے نہ لوٹے، اور ایسا ہی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کیا تھا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 752B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 50»
حدیث نمبر: 752B3
وَسُئِلَ مَالِك ، عَمَّنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ غَيْرِهِمْ مِنْ مَكَّةَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ كَيْفَ يَصْنَعُ بِالطَّوَافِ ؟ قَالَ : أَمَّا الطَّوَافُ الْوَاجِبُ فَلْيُؤَخِّرْهُ وَهُوَ الَّذِي يَصِلُ بَيْنَهُ ، وَبَيْنَ السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ وَلْيَطُفْ مَا بَدَا لَهُ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ كُلَّمَا طَافَ سُبْعًا ، وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ ، فَأَخَّرُوا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعُوا مِنْ مِنًى ، وَفَعَلَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَكَانَ يُهِلُّ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ ، وَيُؤَخِّرُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى .
علامہ وحید الزماں
سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے: جو لوگ اور ملک کے رہنے والے ہیں انہوں نے اگر احرام حج کا مکہ سے باندھا ذوالحجہ کا چاند دیکھ کر، تو وہ فرض طواف کیسے کریں؟ کہا: وہ فرض طواف (طواف الزیارۃ) کی تاخیر کریں، اور وہ طواف ہے جس کے بعد سعی ہوتی ہے صفا اور مروہ کے درمیان میں، اور نفل طواف جتنا چاہے گا کرے۔ لیکن ہر طواف کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرے اور ایسا ہی کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے، احرام حج کا مکہ سے باندھا سو انہوں نے تاخیر کی طواف اور سعی کی یہاں تک کہ لوٹے منیٰ سے اور ایسا ہی کیا سیدنا عبدللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، وہ بھی ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر احرام باندھتے تھے حج کا مکہ سے، اور تاخیر کرتے طواف اور سعی کی منیٰ سے لوٹنے تک۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 752B3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 50»
حدیث نمبر: 752B4
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَلْ يُهِلُّ مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ ، قَالَ : بَلْ يَخْرُجُ إِلَى الْحِلِّ فَيُحْرِمُ مِنْهُ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: مکہ والے کو عمرہ کا احرام باندھنا حرم سے درست نہیں ہے، بلکہ حل سے احرام باندھنا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 752B4
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 50»