حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
محمد بن ابی بکر نے پوچھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، جب وہ دونوں صبح کو جا رہے تھے منیٰ سے عرفہ کو: تم کیا کرتے تھے آج کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ بولے: بعض لوگ ہم میں سے آج کے روز لبیک کہتے تھے پکار کر، تو کوئی منع نہ کرتا۔ بعض لوگ تکبیر کہتے تو کوئی منع نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 745
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ " كَانَ يُلَبِّي فِي الْحَجِّ حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا
علامہ وحید الزماں
محمد باقر سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لبیک کہتے تھے حج میں، مگر جب زوال ہوتا آفتاب کا عرفہ کے روز، تو موقوف کرتے لبیک کو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے شہر کے اہلِ علم اسی پر عمل کرتے چلے آئے ہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے شہر کے اہلِ علم اسی پر عمل کرتے چلے آئے ہیں۔
حدیث نمبر: 746
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا " كَانَتْ تَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ إِذَا رَجَعَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موقوف کرتی تھیں لبیک کو جب جاتی تھیں عرفات کو۔
حدیث نمبر: 747
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْحَجِّ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَإِذَا غَدَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ وَكَانَ يَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موقوف کرتے تھے لبیک کہنے کو حج میں جب پہنچتے حرم میں طواف اور سعی تک، پھر لبیک کہنے لگتے یہاں تک کہ صبح کو منیٰ سے چلیں عرفہ کو، سو جب عرفات کو چلتے لبیک موقوف کرتے، اور عمرہ میں موقوف کرتے لبیک کو جب داخل ہوتے حرم میں۔
حدیث نمبر: 748
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَا يُلَبِّي وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ "
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب کہتے تھے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طواف میں لبیک نہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 749
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ " أَنَّهَا كَانَتْ تَنْزِلُ مِنْ عَرَفَةَ ، بِنَمِرَةَ ، ثُمَّ تَحَوَّلَتْ إِلَى الْأَرَاكِ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُهِلُّ مَا كَانَتْ فِي مَنْزِلِهَا وَمَنْ كَانَ مَعَهَا ، فَإِذَا رَكِبَتْ فَتَوَجَّهَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ تَرَكَتِ الْإِهْلَالَ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَعْتَمِرُ بَعْدَ الْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ ثُمَّ تَرَكَتْ ذَلِكَ ، فَكَانَتْ تَخْرُجُ قَبْلَ هِلَالِ الْمُحَرَّمِ حَتَّى تَأْتِيَ الْجُحْفَةَ ، فَتُقِيمَ بِهَا حَتَّى تَرَى الْهِلَالَ ، فَإِذَا رَأَتِ الْهِلَالَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ جب عرفات میں آتیں تو نمرا میں اترتیں، پھر اراک میں اترنے لگیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے مکان میں جب تک ہوتیں تو بھی اور ان کے ساتھی لبیک کہا کرتے، جب سوار ہوتیں تو لبیک کہنا موقوف کرتیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعد حج کے عمرہ ادا کرتیں مکہ سے احرام باندھ کر ذی الحجہ میں، پھر یہ چھوڑ دیا اور محرم کے چاند سے پہلے جحفہ میں آکر ٹھہرتیں، جب چاند ہوتا تو عمرہ کا احرام باندھتیں۔
حدیث نمبر: 750
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَدَا يَوْمَ عَرَفَةَ مِنْ مِنًى فَسَمِعَ التَّكْبِيرَ عَالِيًا " فَبَعَثَ الْحَرَسَ يَصِيحُونَ فِي النَّاسِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا التَّلْبِيَةُ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ ابن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ صبح کو چلے نویں تاریخ کو منیٰ سے عرفہ کو تو بلند آواز سے تکبیر سنی، انہوں نے اپنے آدمیوں کو بھیج کر کہلوایا کہ اے لوگو یہ وقت لبیک کہنے کا ہے۔