حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " . قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا : لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لبیک یہ تھی: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ.» اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں زیادہ کرتے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ۔
حدیث نمبر: 733
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں، پھر جب اونٹ پر سوار ہو جاتے لبیک پکار کر کہتے۔
حدیث نمبر: 734
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، " مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سالم بن عبداللہ نے سنا اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، کہتے تھے کہ یہ میدان ہے جس میں تم جھوٹ باندھتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا وہاں سے، حالانکہ نہیں لبیک کہی آپ صلی علی وسلم نے مگر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سے۔
حدیث نمبر: 735
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ، قَالَ : " وَمَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا ، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبید بن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے: اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے تم کو چار باتیں ایسی کرتے ہوئے دیکھیں جو تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی نہیں کرتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کون سی باتیں بتاؤ اے ابن جریج؟ انہوں نے کہا : میں نے دیکھا تم کو نہیں چھوتے ہو تم طواف میں مگر رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کو، اور میں نے دیکھا تم کو کہ پہنتے ہو تم جوتیاں ایسے چمڑے کی جس میں بال نہیں رہتے، اور میں نے دیکھا خضاب کرتے ہو تم زرد، اور میں نے دیکھا تم کو جب تم مکہ میں ہوتے ہو تو لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے اور تم نہیں باندھتے مگر آٹھویں تاریخ کو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ارکان کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی رُکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے، اور جوتیوں کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے چمڑے کی جوتیاں پہنتے دیکھا جس میں بال نہیں رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے بھی اُن کو پہن لیتے تو میں بھی ان کا پہننا پسند کرتا ہوں، اور زرد رنگ کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا زرد رنگ کا خضاب کیے ہوئے تو میں بھی اس کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کا حال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک نہیں پکارتے تھے یہاں تک کہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدھا کھڑا ہو جاتا چلنے کے واسطے۔
حدیث نمبر: 736
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَرْكَبُ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَحْرَمَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھتے ذوالحلیفہ کی مسجد میں، پھر نکل کر سوار ہوتے اس وقت احرام باندھتے۔
حدیث نمبر: 737
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ " أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَأَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ أَشَارَ عَلَيْهِ بِذَلِكَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ عبدالملک بن مروان نے لبیک پکارا ذوالحلیفہ کی مسجد سے جب اُونٹ اُن کا سیدھا ہوا چلنے کو، اور ابان بن عثمان نے یہ حکم کیا تھا اُن کو۔