حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنين سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں خوشبو لگاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے وقت قبل احرام باندھنے کے، اور احرام کھولنے کے وقت قبل طواف الزیارت کے۔
حدیث نمبر: 723
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ ، وَعَلَى الْأَعْرَابِيِّ قَمِيصٌ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْزَعْ قَمِيصَكَ ، وَاغْسِلْ هَذِهِ الصُّفْرَةَ عَنْكَ ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَفْعَلُ فِي حَجِّكَ "
علامہ وحید الزماں
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے، اور وہ اعرابی ایک کرتا پہنے ہوئے تھا جس میں زرد رنگ کا نشان تھا، تو کہا اس نے: یا رسول اللّٰہ! میں نے نیت کی ہے عمرہ کی، پس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کرتا اتار اور زردی دھو ڈال اپنے بدن سے، اور جو حج میں کرتا ہے وہی عمرہ میں کر۔“
حدیث نمبر: 724
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ ، فَقَالَ : " مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ ؟ " فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ : مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : " مِنْكَ لَعَمْرُ اللَّهِ " ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ طَيَّبَتْنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ عُمَرُ : " عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرْجِعَنَّ فَلْتَغْسِلَنَّهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت اسلم سے جو مولیٰ ہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے، روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے (چھے میل ہے مدینہ سے)، سو کہا کے یہ خوشبو کس شخص سے آتی ہے؟ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بولے: مجھ سے اے امیر المومنین! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، تمہیں قسم ہے اللہ کریم کے بقا کی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بولے کہ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو لگا دی میرے اے امیر المومنین! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم دھو ڈالو اس کو جا کر۔
حدیث نمبر: 725
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ زُيَيْدٍ ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ وَإِلَى جَنْبِهِ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ ، فَقَالَ عُمَرُ : " مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ ؟ " فَقَالَ كَثِيرٌ : مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَبَّدْتُ رَأْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَحْلِقَ ، فَقَالَ عُمَرُ : " فَاذْهَبْ إِلَى شَرَبَةٍ ، فَادْلُكْ رَأْسَكَ حَتَّى تُنْقِيَهُ " فَفَعَلَ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ . ¤ قَالَ مَالِك : الشَّرَبَةُ حَفِيرٌ تَكُونُ عِنْدَ أَصْلِ النَّخْلَةِ
علامہ وحید الزماں
حضرت صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی اپنے عزیزوں سے سنا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے، اور آپ کے پہلو میں کثیر بن صلت تھے، تو کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: کس میں سے یہ خوشبو آتی ہے؟ کثیر نے کہا: مجھ میں سے۔ میں نے اپنے بال جمائے تھے کیونکہ میرا ارادہ سر منڈوانے کا نہ تھا بعد احرام کھولنے کے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: شربہ کے پاس جا اور سر کو مل کر دھو ڈال، تب ایسا کیا کثیر بن صلت نے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: شربہ اس گڑھےکو کہتے ہیں جو کھجور کے درخت کے پاس ہوتا ہے اور اس میں پانی بھرا رہتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: شربہ اس گڑھےکو کہتے ہیں جو کھجور کے درخت کے پاس ہوتا ہے اور اس میں پانی بھرا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 726
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ " سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَخَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ أَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ عَنِ الطِّيبِ ، فَنَهَاهُ سَالِمٌ ، وَأَرْخَصَ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید اور عبداللہ بن ابی بکر اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا سالم بن عبداللہ اور خارجہ بن زید سے کہ بعد کنکریاں مارنے کے اور سر منڈوانے کے، قبل طواف الافاضہ کے خوشبو لگانا کیسا ہے؟ تو منع کیا سالم نے اور جائز رکھا خارجہ بن زید بن ثابت نے۔
حدیث نمبر: 726B1
قَالَ مَالِك : لَا بَأْسَ أَنْ يَدَّهِنَ الرَّجُلُ بِدُهْنٍ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ مِنْ مِنًى بَعْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسا تیل لگائے جس میں خوشبو نہ ہو قبل احرام کے، یا قبل طواف الافاضہ کے، بعد کنکریاں مارنے کے تو پھر قباحت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 726B2
قَالَ يَحْيَى ، سُئِلَ مَالِك ، عَنْ طَعَامٍ فِيهِ زَعْفَرَانٌ هَلْ يَأْكُلُهُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ : أَمَّا مَا تَمَسُّهُ النَّارُ مِنْ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ أَنْ يَأْكُلَهُ الْمُحْرِمُ ، وَأَمَّا مَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَأْكُلُهُ الْمُحْرِمُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک سے سوال ہوا کہ محرم اس کھانے کو کھائے جس میں زعفران پڑی ہو؟ بولے: اگر آگ سے پکا ہو تو درست ہے، ورنہ درست نہیں۔