حدیث نمبر: 712
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ " ، وَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ "
علامہ وحید الزماں
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے کہ محرم رنگا ہوا کپڑا زعفران میں یا ورس میں پہنے، اور فرمایا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: ”جس کو نعلین نہ ملیں وہ موزے پہن لے، مگر اس کو ٹخنوں سے نیچا کر کے کاٹ لے۔“
حدیث نمبر: 713
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَا هَذَا الثَّوْبُ الْمَصْبُوغُ يَا طَلْحَةُ ؟ " ، فَقَالَ طَلْحَةُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا هُوَ مَدَرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : " إِنَّكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ أَئِمَّةٌ يَقْتَدِي بِكُمُ النَّاسُ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاهِلًا رَأَى هَذَا الثَّوْبَ ، لَقَالَ : إِنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كَانَ يَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُصَبَّغَةَ فِي الْإِحْرَامِ ، فَلَا تَلْبَسُوا أَيُّهَا الرَّهْطُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اسلم سے جو مولیٰ تھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے، حدیث بیان کرتے تھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو رنگین کپڑے پہننے ہوئے احرام میں، تو پوچھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: کیا ہے یہ کپڑا رنگا ہوا اے طلحہ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ مٹی کا رنگ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ پیشوا ہو، لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں، اگر کوئی جاھل جو اس رنگ سے واقف نہ ہو اس کپڑے کو دیکھے تو یہی کہے گا کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ رنگین کپڑے پہنتے تھے احرام میں، تو نہ پہنو تم لوگ ان رنگین کپڑوں میں سے کچھ۔
حدیث نمبر: 714
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَاتِ الْمُشَبَّعَاتِ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ لَيْسَ فِيهَا زَعْفَرَانٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا خوب گہرے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں احرام میں، لیکن زعفران اس میں نہ ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 714B
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك عَنْ ثَوْبٍ مَسَّهُ طِيبٌ ، ثُمَّ ذَهَبَ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ هَلْ يُحْرِمُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ صِبَاغٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر کسی کپڑے میں خوشبو لگی ہو، پھر اس کی بو جاتی رہے تو احرام میں پہننا اسکا درست ہے؟ کہا: ہاں، جب رنگ اس میں باقی نہ ہو زعفران کا یا وَرس کا۔