حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر مقرر کیا لوگوں پر ایک صاع کھجور کا یا ایک صاع جو کا ہر آزاد اور ہر غلام پر مرد ہو یا عورت مسلمانوں میں سے۔
حدیث نمبر: 700
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، وَذَلِكَ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عیاض بن عبداللہ نے سنا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے: ہم نکالتے تھے صدقۂ فطر ایک صاع گیہوں سے، یا ایک صاع جو سے، یا ایک صاع کھجور سے، یا ایک صاع پنیر سے، یا ایک صاع انگور خشک سے، نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صاع سے۔
حدیث نمبر: 701
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ لَا يُخْرِجُ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ إِلَّا التَّمْرَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَإِنَّهُ أَخْرَجَ شَعِيرًا "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقۂ فطر میں ہمیشہ کھجور دیا کرتے تھے، مگر ایک بار جو دئیے۔
حدیث نمبر: 701B
قَالَ مَالِك : وَالْكَفَّارَاتُ كُلُّهَا وَزَكَاةُ الْفِطْرِ وَزَكَاةُ الْعُشُورِ كُلُّ ذَلِكَ بِالْمُدِّ الْأَصْغَرِ ، مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الظِّهَارَ ، فَإِنَّ الْكَفَّارَةَ فِيهِ بِمُدِّ هِشَامٍ وَهُوَ الْمُدُّ الْأَعْظَمُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جتنے کفارے اور صدقے اور زکوٰتیں ہیں وہ سب چھوٹے مُد کے حساب سے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مُد سے ہیں، مگر ظہار کا کفارہ بڑے مُد سے ہے جو ہشام بن عبدالملک کا ہے۔