کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: غلوں اور زیتون کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الزَّيْتُونِ ، فَقَالَ : " فِيهِ الْعُشْرُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے پوچھا ابن شہاب سے کہ زیتون میں کیا واجب ہے؟ بولے : دسواں حصہ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7547، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2327، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7193، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10141، شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 35»
حدیث نمبر: 683B1
قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنَ الزَّيْتُونِ الْعُشْرُ ، بَعْدَ أَنْ يُعْصَرَ وَيَبْلُغَ زَيْتُونُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، فَمَا لَمْ يَبْلُغْ زَيْتُونُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ فَلَا زَكَاةَ فِيهِ
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B1
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B2
وَالزَّيْتُونُ بِمَنْزِلَةِ النَّخِيلِ مَا كَانَ مِنْهُ سَقَتْهُ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ ، أَوْ كَانَ بَعْلًا فَفِيهِ الْعُشْرُ ، وَمَا كَانَ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، وَلَا يُخْرَصُ شَيْءٌ مِنَ الزَّيْتُونِ فِي شَجَرِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: زیتون مثل کھجور کے ہے، اگر وہ باران یا چشمہ سے پیدا ہوتا ہو یا خود بخود پیدا ہوتا ہو اور اس میں پانی کی حاجت نہ ہو تو اس میں دسواں حصہ لازم ہوگا، اور جو پانی سینچ کر اس میں دیا جائے تو بیسواں حصہ لازم ہوگا، اور زیتون کا خرص کرنا جب وہ درخت میں لگا ہو درست ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B2
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B3
وَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا فِي الْحُبُوبِ الَّتِي يَدَّخِرُهَا النَّاسُ ، وَيَأْكُلُونَهَا أَنَّهُ يُؤْخَذُ مِمَّا سَقَتْهُ السَّمَاءُ مِنْ ذَلِكَ ، وَمَا سَقَتْهُ الْعُيُونُ وَمَا كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِالصَّاعِ الْأَوَّلِ ، صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا زَادَ عَلَى خَمْسَةِ أَوْسُقٍ فَفِيهِ الزَّكَاةُ بِحِسَابِ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں
کہا: جتنے قسم کے غلے میں جن کو لوگ کھاتے ہیں یا رکھ چھوڑتے ہیں، اگر بارش سے یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوں یا ان کو پانی کی احتیاج نہ ہو، اس میں دسواں حصہ لازم ہے، اور جن میں پانی سینچ کر دیا جائے ان میں بیسواں حصہ لازم ہے، جب وہ پانچ وسق کے مقدار ہوں، ہر وسق ساٹھ صاع کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع سے، اور جو اس سے زیادہ ہوں تو بھی اسی کے حساب سے زکوٰۃ لی جائے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B3
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B4
قَالَ مَالِك : وَالْحُبُوبُ الَّتِي فِيهَا الزَّكَاةُ الْحِنْطَةُ وَالشَّعِيرُ وَالسُّلْتُ وَالذُّرَةُ وَالدُّخْنُ وَالْأُرْزُ وَالْعَدَسُ وَالْجُلْبَانُ وَاللُّوبِيَا وَالْجُلْجُلَانُ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْحُبُوبِ الَّتِي تَصِيرُ طَعَامًا ، فَالزَّكَاةُ تُؤْخَذُ مِنْهَا بَعْدَ أَنْ تُحْصَدَ وَتَصِيرَ حَبًّا ، قَالَ : وَالنَّاسُ مُصَدَّقُونَ فِي ذَلِكَ وَيُقْبَلُ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ مَا دَفَعُوا
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جن غلوں میں زکوٰۃ واجب ہے وہ یہ ہیں: گیہوں، اور جو پوست دار اور بے پوست دار، اور جوار، اور چنا، اور چاول، اور مسور، اور ماش، اور لوبیا، اور تل، اور جو مشابہ ہوں ان کے غلوں میں سے جو کھائے جاتے ہیں، تو ان سب میں سے زکوٰۃ لی جائے گی جب وہ کٹ کر تیار ہوں اور دانے صاف ہو جائیں۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ان چیزوں کی زکوٰۃ میں ان کے قول کی تصدیق ہوگی، اور جس قدر دیں گے قبول کر لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B4
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B5
وَسُئِلَ مَالِك ، مَتَى يُخْرَجُ مِنَ الزَّيْتُونِ الْعُشْرُ أَوْ نِصْفُهُ أَقَبْلَ النَّفَقَةِ أَمْ بَعْدَهَا ؟ فَقَالَ : لَا يُنْظَرُ إِلَى النَّفَقَةِ ، وَلَكِنْ يُسْأَلُ عَنْهُ أَهْلُهُ كَمَا يُسْأَلُ أَهْلُ الطَّعَامِ عَنِ الطَّعَامِ ، وَيُصَدَّقُونَ بِمَا قَالُوا فَمَنْ رُفِعَ مِنْ زَيْتُونِهِ خَمْسَةُ أَوْسُقٍ فَصَاعِدًا أُخِذَ مِنْ زَيْتِهِ الْعُشْرُ بَعْدَ أَنْ يُعْصَرَ ، وَمَنْ لَمْ يُرْفَعْ مِنْ زَيْتُونِهِ خَمْسَةُ أَوْسُقٍ لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِ فِي زَيْتِهِ الزَّكَاةُ
علامہ وحید الزماں
کہا یحییٰ نے سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ زیتون کا دسواں حصہ کب نکالا جائے گا، قبل خرچ کے یا بعد خرچ کے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خرچ اخراجات کو دیکھنا کچھ ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے مالک سے پوچھیں گے۔ جیسے غلہ کے مالک سے پوچھتے ہیں، وہ کہیں گے ان کی تصدیق ہوگی، پس جو شخص اپنے زیتون سے پانچ وسق یا زیادہ دانے پائے گا اس سے دسواں حصہ تیل کا لیا جائے گا، اور جو اس سے کم پائے گا اس سے کچھ کم لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B5
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B6
قَالَ مَالِك : وَمَنْ بَاعَ زَرْعَهُ وَقَدْ صَلَحَ وَيَبِسَ فِي أَكْمَامِهِ فَعَلَيْهِ زَكَاتُهُ ، وَلَيْسَ عَلَى الَّذِي اشْتَرَاهُ زَكَاةٌ ، وَلَا يَصْلُحُ بَيْعُ الزَّرْعِ حَتَّى يَيْبَسَ فِي أَكْمَامِهِ ، وَيَسْتَغْنِيَ عَنِ الْمَاءِ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جب کھیت پک کر تیار ہو جائے اور مالک اس کو بیچ ڈالے تو مالک پر زکوٰۃ ہوگی، نہ خریدار پر۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: کھیت کا بیچنا درست نہیں ہے جب تک پک کر پھل بالیوں میں سوکھ نہ جائیں اور پانی نہ دینے کی احتیاج نہ رہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B6
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B7
قَالَ مَالِك : فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ سورة الأنعام آية 141 أَنَّ ذَلِكَ الزَّكَاةُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یہ جو فرمایا اللہ تعالیٰ نے: «﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ [الأنعام: 141]» یعنی ”دو حق غلے کا وقت کاٹنے کے۔“ مراد اس سے زکوٰۃ ہے، اور میں نے سنا ایک شخص سے جو یہ کہتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B7
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»
حدیث نمبر: 683B8
قَالَ مَالِك : وَمَنْ بَاعَ أَصْلَ حَائِطِهِ أَوْ أَرْضَهُ وَفِي ذَلِكَ زَرْعٌ أَوْ ثَمَرٌ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ ، فَزَكَاةُ ذَلِكَ عَلَى الْمُبْتَاعِ وَإِنْ كَانَ قَدْ طَابَ وَحَلَّ بَيْعُهُ ، فَزَكَاةُ ذَلِكَ عَلَى الْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهَا عَلَى الْمُبْتَاعِ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس شخص نے اپنا باغ بیچا یا زمین بیچی اور اس میں کھیت ہے یا پھل ہیں جن کی بہتری کا حال معلوم ہو گیا اور بیع اس کی درست ہوئی تو زکوٰۃ اس کے بائع پر ہے، مگر یہ کہ بائع شرط کرے خریدار سے کہ زکوٰۃ اس کی خریدار دے تو خریدار پر لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 683B8
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 559، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 36ق»