حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، قَالَ : " لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر نہ دیں گے رسی بھی اونٹ باندھنے کی تو میں جہاد کروں گا ان پر۔
حدیث نمبر: 679
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ قَالَ : شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ ، فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ : " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ ؟ " فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ ، وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا ، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدَهُ فَاسْتَقَاءَهُ
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا۔ پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا، وہاں پر جانور زکوٰۃ کے پانی پی رہے تھے، لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا، میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا، وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی۔
حدیث نمبر: 679B
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنْ مَنَعَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمْ يَسْتَطِعِ الْمُسْلِمُونَ أَخْذَهَا ، كَانَ حَقًّا عَلَيْهِمْ جِهَادُهُ حَتَّى يَأْخُذُوهَا مِنْهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی اس چیز کو جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے روکے اور مسلمانوں کو لینے نہ دے تو مسلمانوں پر جہاد کرنا اس شخص سے لازم ہے، یہاں تک کہ لے لیں اس حق کو۔
حدیث نمبر: 680
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ : أَنَّ رَجُلًا مَنَعَ زَكَاةَ مَالِهِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ : " أَنْ دَعْهُ وَلَا تَأْخُذْ مِنْهُ زَكَاةً مَعَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ، وَأَدَّى بَعْدَ ذَلِكَ زَكَاةَ مَالِهِ ، فَكَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ خُذْهَا مِنْهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ایک عامل نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا، حضرت عمر رحمہ اللہ نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوٰۃ نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی، اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی۔ بعد اس کے عامل نے حضرت عمر رحمہ اللہ کو اطلاع دی، انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوٰۃ کو اس شخص سے۔