کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: بکریوں کی تعداد میں بچوں کو بھی شمار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 674
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ. فَقَالُوا: أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ؟ وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ: نَعَمْ تَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ ، يَحْمِلُهَا الرَّاعِي ، وَلَا تَأْخُذُهَا وَلَا تَأْخُذُ الْأَكُولَةَ ، وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ ، وَتَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْغَنَمِ وَخِيَارِهِ.
علامہ وحید الزماں
حضرت سفیان بن عبداللہ کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے متصدق (یعنی زکوٰۃ وصول کرنے والا) کر کے بھیجا، تو وہ بکریوں میں بچے کو بھی شمار کرتے تھے، لوگوں نے کہا: تم بچوں کو شمار میں داخل کرتے ہو لیکن بچہ نہیں لیتے ہو، تو جب آئے وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس، بیان کیا اُن سے یہ امر، تو کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: ہاں ہم گنتے ہیں بچوں کو بلکہ اس بچے کو جس کو چرواہا اٹھا کر چلتا ہے، لیکن نہیں لیتے اس کو نہ موٹی بکری کو جو کھانے کے واسطے موٹی کی جائے
حدیث نمبر: 674B1
قَالَ مَالِكٌ: وَالسَّخْلَةُ الصَّغِيرَةُ حِينَ تُنْتَجُ. وَالرُّبَّى الَّتِي قَدْ وَضَعَتْ فَهِيَ تُرَبِّي وَلَدَهَا ، وَالْمَاخِضُ هِيَ الْحَامِلُ. وَالْأَكُولَةُ هِيَ شَاةُ اللَّحْمِ الَّتِي تُسَمَّنُ لِتُؤْكَلَ
علامہ وحید الزماں
اور نہ اس بکری کو جو اپنے بچے کو پالتی ہو، اور نہ حاملہ کو اور نہ نر کو، اور لیتے ہیں ہم ایک سال یا دو سال کی بکری کو جو متوسط ہے، نہ بچہ ہے نہ بوڑھی ہے نہ بہت عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 674B2
وقَالَ مَالِكٌ: فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْغَنَمُ لَا تَجِبُ فِيهَا الصَّدَقَةُ ، فَتَوَالَدُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهَا الْمُصَدِّقُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ ، فَتَبْلُغُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ بِوِلَادَتِهَا. ¤ قَالَ مَالِكٌ: إِذَا بَلَغَتِ الْغَنَمُ بِأَوْلَادِهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ ، فَعَلَيْهِ فِيهَا الصَّدَقَةُ. وَذَلِكَ أَنَّ وِلَادَةَ الْغَنَمِ مِنْهَا. وَذَلِكَ مُخَالِفٌ لِمَا أُفِيدَ مِنْهَا بِاشْتِرَاءٍ أَوْ هِبَةٍ أَوْ مِيرَاثٍ. وَمِثْلُ ذَلِكَ ، الْعَرْضُ. لَا يَبْلُغُ ثَمَنُهُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ. ثُمَّ يَبِيعُهُ صَاحِبُهُ فَيَبْلُغُ بِرِبْحِهِ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ. فَيُصَدِّقُ رِبْحَهُ مَعَ رَأْسِ الْمَالِ. وَلَوْ كَانَ رِبْحُهُ فَائِدَةً أَوْ مِيرَاثًا ، لَمْ تَجِبْ فِيهِ الصَّدَقَةُ ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهُ أَوْ وَرِثَهُ
حدیث نمبر: 674B3
قَالَ مَالِكٌ: فَغِذَاءُ الْغَنَمِ مِنْهَا ، كَمَا رِبْحُ الْمَالِ مِنْهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی شخص کی بکریاں نصاب سے کم ہوں اور مصدق کے آنے سے ایک دن پہلے وہ بکریاں بچہ جنیں، اور نصاب پورا ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی، اس لیے کہ اولاد بکریوں میں داخل ہے، اور یہ مسئلہ مخالف ہے اس مسئلہ کے کہ ایک شخص کے پاس نصاب سے کم بکریاں ہوں پھر خرید یا میراث یا ہبہ کی وجہ سے اور بکریاں آ جائیں، نظیر اس مسئلہ کی یہ ہے کہ ایک شخص کے پاس کسی قسم کا اسباب ہو جس کی قیمت نصاب سے کم ہو، پھر وہ اس کو اس قدر نفع سے بیچے جو نصاب کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ نفع کی راس المال کے ساتھ لازم آئے گی، اور اگر نفع اس کا ہبہ یا میراث ہوتا تو زکوٰۃ واجب نہ ہوتی جب تک اس پر ایک سال نہ گزرتا یا میراث کے زور سے۔
حدیث نمبر: 674B4
غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ يَخْتَلِفُ فِي وَجْهٍ آخَرَ. أَنَّهُ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ ، ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهِ مَالًا تَرَكَ مَالَهُ ، الَّذِي أَفَادَ فَلَمْ يُزَكِّهِ مَعَ مَالِهِ الْأَوَّلِ حِينَ يُزَكِّيهِ ، حَتَّى يَحُولَ عَلَى الْفَائِدَةِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا. وَلَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ غَنَمٌ ، أَوْ بَقَرٌ أَوْ إِبِلٌ ، تَجِبُ فِي كُلِّ صِنْفٍ مِنْهَا الصَّدَقَةُ. ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهَا بَعِيرًا ، أَوْ بَقَرَةً ، أَوْ شَاةً ، صَدَّقَهَا مَعَ صِنْفِ مَا أَفَادَ مِنْ ذَلِكَ حِينَ يُصَدِّقُهُ ، إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ الصِّنْفِ الصِّنْفُ الَّذِي أَفَادَ ، نِصَابُ مَاشِيَةٍ. ¤ قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: سو بچے بکریوں کے بکریوں میں داخل ہیں، جیسے کہ نفع مال کا اس مال میں داخل ہے۔