کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: ترکہ کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 666Q1
مَالِكٌ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا هَلَكَ وَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاةَ مَالِهِ، إِنِّي أَرَى أَنْ يُؤْخَذَ ذَلِكَ مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ، وَلَا يُجَاوَزُ بِهَا الثُّلُثُ وَتُبَدَّأَ عَلَى الْوَصَايَا، وَأَرَاهَا بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ عَلَيْهِ فَلِذَلِكَ رَأَيْتُ أَنْ تُبَدَّأَ عَلَى الْوَصَايَا، [1/355] قَالَ : وَذَلِكَ إِذَا أَوْصَى بِهَا الْمَيِّتُ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يُوصِ بِذَلِكَ الْمَيِّتُ فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُهُ فَذَلِكَ حَسَنٌ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ أَهْلُهُ، لَمْ يَلْزَمْهُمْ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں
.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص مر گیا اور اس نے اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دی تو اس کے تہائی مال سے زکوٰۃ وصول کی جائے، نہ زیادہ اس سے، اور یہ زکوٰۃ مقدم ہوگی اس کی وصیتوں پر، کیونکہ زکوٰۃ مثل دین (قرض) کے ہے اس پر، اسی واسطے وصیت پر مقدم کی جائے گی، مگر یہ حکم جب ہے کہ میت نے وصیت کی ہو زکوٰۃ ادا کرنے کی، اگر وہ وصیت نہ کرے لیکن وارث اس کے ادا کریں تو بہتر ہے مگر ان کو ضروری نہیں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 666Q1
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 541، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 666Q2
قَالَ : قَالَ مَالِكٌ : السُّنَّةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا، أَنَّهُ لَا تَجِبُ عَلَى وَارِثٍ زَكَاةٌ فِي مَالٍ وَرِثَهُ فِي دَيْنٍ، وَلَا عَرْضٍ وَلَا دَارٍ، وَلَا عَبْدٍ وَلَا وَلِيدَةٍ، حَتَّى يَحُولَ عَلَى ثَمَنِ مَا بَاعَ مِنْ ذَلِكَ أَوِ اقْتَضَى الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ مَا بَاعَهُ وَقَبَضَهُ .
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک سنّتِ اتفاقی یہ ہے کہ وارث پر زکوٰۃ واجب نہیں اس مال کی جو وراثت کی رُو سے اس کو پہنچا، نہ دین میں، نہ اسباب میں، نہ گھر میں، نہ غلام میں، نہ لونڈی میں۔ البتہ ترکے میں سے جب کسی شے کو بیچے اور اس کی بیع پر یا زرِ ثمن کے وصول پر ایک سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 666Q2
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 541، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 666Q3
- قَالَ : قَالَ مَالِكٌ : السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا تَجِبُ عَلَى وَارِثٍ فِي مَالٍ وَرِثَهُ الزَّكَاةُ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ .
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ وارث پر اس مال جو وراثت کی رُو سے اس کو پہنچا زکوٰۃ واجب نہیں ہے یہاں تک کہ ایک سال اس پر گزرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 666Q3
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 541، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 16»