کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: یتیم کے مال کی زکوٰۃ کا بیان اور اس میں تجارت کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " اتَّجِرُوا فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى لَا تَأْكُلُهَا الزَّكَاةُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجارت کرو یتیموں کے مال میں تاکہ زکوٰۃ اُن کو تمام نہ کرے۔
حدیث نمبر: 663
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ " تَلِينِي وَأَخًا لِي يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِهَا فَكَانَتْ تُخْرِجُ مِنْ أَمْوَالِنَا الزَّكَاةَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پرورش کرتی تھی میری اور میرے بھائی کی، دونوں یتیم تھے ان کی گود میں، تو نکالتی تھیں ہمارے مالوں میں سے زکوٰۃ۔
حدیث نمبر: 664
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَتْ تُعْطِي أَمْوَالَ الْيَتَامَى الَّذِينَ فِي حَجْرِهَا مَنْ يَتَّجِرُ لَهُمْ فِيهَا "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کا مال تاجر کو دیتی تھیں تاکہ وہ اس میں تجارت کریں۔
حدیث نمبر: 665
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، " أَنَّهُ اشْتَرَى لِبَنِي أَخِيهِ يَتَامَى فِي حِجْرِهِ مَالًا فَبِيعَ ذَلِكَ الْمَالُ بَعْدُ بِمَالٍ كَثِيرٍ "
علامہ وحید الزماں
یحیٰی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کے یتیم لڑکوں کے واسطے کچھ مال خریدا، پھر وہ مال بڑی قیمت کا بکا۔
حدیث نمبر: 665B
قَالَ مَالِك : لَا بَأْسَ بِالتِّجَارَةِ فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى لَهُمْ إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ مَأْمُونًا فَلَا أَرَى عَلَيْهِ ضَمَانًا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یتیم کے مال میں تجارت کرنا کچھ بُرا نہیں ہے جب ولی یتیم کا معتبر دیانت دار ہو اور اس پر تاوان لازم نہ ہوگا اگر نقصان ہو۔