کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: بیان اُن چیزوں کا جن میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، جیسے زیور اور سونے چاندی کا ڈلاّ اور عنبر
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَتْ تَلِي بَنَاتَ أَخِيهَا يَتَامَى فِي حَجْرِهَا لَهُنَّ الْحَلْيُ ، فَلَا تُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ سیدہ اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پرورش کرتی تھیں اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کی یتیم بیٹیوں کو، اور اُن کے پاس زیور تھے تو نہیں نکالتی تھیں اس میں سے زکوٰۃ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 660
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7052،والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7629، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2351، والبيهقي فى«سننه الصغير» برقم: 1204، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10272، 10273، 10274، 10286، شركة الحروف نمبر: 537، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 661
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يُحَلِّي بَنَاتَهُ وَجَوَارِيَهُ الذَّهَبَ ، ثُمَّ لَا يُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے اور ان کے زیوروں میں سے زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 661
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7630، 7631، 7646، والبيهقي فى«سننه الصغير» برقم: 1199، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:2353، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7047، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10271، والشافعي فى «الاُم » برقم: 41/2، والشافعي فى «المسنده» برقم: 413/1، شركة الحروف نمبر: 538، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 661B1
قَالَ مَالِك : مَنْ كَانَ عِنْدَهُ تِبْرٌ أَوْ حَلْيٌ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ، لَا يُنْتَفَعُ بِهِ لِلُبْسٍ فَإِنَّ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةَ فِي كُلِّ عَامٍ ، يُوزَنُ فَيُؤْخَذُ رُبُعُ عُشْرِهِ إِلَّا أَنْ يَنْقُصَ مِنْ وَزْنِ عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ ، فَإِنْ نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ ، وَإِنَّمَا تَكُونُ فِيهِ الزَّكَاةُ إِذَا كَانَ إِنَّمَا يُمْسِكُهُ لِغَيْرِ اللُّبْسِ ، فَأَمَّا التِّبْرُ وَالْحُلِيُّ الْمَكْسُورُ الَّذِي يُرِيدُ أَهْلُهُ إِصْلَاحَهُ وَلُبْسَهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمَتَاعِ الَّذِي يَكُونُ عِنْدَ أَهْلِهِ فَلَيْسَ عَلَى أَهْلِهِ فِيهِ زَكَاةٌ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کے پاس سونے یا چاندی کا ڈلا ہو اور اس سے نفع نہ لیا جاتا ہو، مثل پہننے وغیرہ کے تو اس کی زکوٰۃ واجب ہے۔ ہر سال اس میں سے چالیسواں حصہ لیا جائے گا، مگر جب بیس دینار یا دو سو درہم سے وزن میں کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی بلکہ زکوٰۃ اسی صورت میں ہوگی جب نصاب کے مقدار ہو، اور اس سے منفعت نہ لی جائے، لیکن وہ ڈلا جس سے زیور بنانا مقصود ہو یا ٹوٹا ہوا زیور جس کا درست کرنا منظور ہو تو وہ مثل اسباب خانگی کے ہے، اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 661B1
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 538، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 661B2
قَالَ مَالِك : لَيْسَ فِي اللُّؤْلُؤِ وَلَا فِي الْمِسْكِ وَلَا الْعَنْبَرِ زَكَاةٌ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: موتی اور مشک اور عنبر میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الزكاة / حدیث: 661B2
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 538، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 11»