حدیث نمبر: 649
حَدَّثَنِي زِيَاد ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ ، وَجَدَ أَخْبِيَةً خِبَاءَ عَائِشَةَ ، وَخِبَاءَ حَفْصَةَ ، وَخِبَاءَ زَيْنَبَ فَلَمَّا رَآهَا سَأَلَ عَنْهَا ، فَقِيلَ لَهُ : هَذَا خِبَاءُ عَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ ، وَزَيْنَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ " ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا اعتکاف کا۔ جب آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ میں جہاں اعتکاف کرنا چاہتے تھے، پائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے۔ ایک خیمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا، اور ایک خیمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا، اور ایک خیمہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا۔ تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کن کے خیمے ہیں؟“ لوگوں نے کہا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کیا تم نیکی کا گمان کرتے ہو ان عورتوں کے ساتھ۔“ پھر لوٹ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اعتکاف نہ کیا اور شوال کے دس روزہ میں اعتکاف کیا۔
حدیث نمبر: 649B1
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ لِعُكُوفٍ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَأَقَامَ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ، ثُمَّ مَرِضَ فَخَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ أَيَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ مَا بَقِيَ مِنَ الْعَشْرِ إِذَا صَحَّ ، أَمْ لَا يَجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَفِي أَيِّ شَهْرٍ يَعْتَكِفُ إِنْ وَجَبَ عَلَيْهِ ذَلِكَ ، فَقَالَ مَالِك : يَقْضِي مَا وَجَبَ عَلَيْهِ مِنْ عُكُوفٍ إِذَا صَحَّ فِي رَمَضَانَ أَوْ غَيْرِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے کہا گیا: جو شخص رمضان کے اخیر دہے میں اعتکاف شروع کرے، پھر ایک یا دو دن کے بعد بیمار ہو جائے اور مسجد سے چلا جائے تو کیا وہ قضا کرے اُن دنوں کی جتنے دن باقی رہے تھے جب تندرست ہو جائے، یا قضا نہ کرے، اور جو قضا کرے تو کس مہینے میں؟ تو امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ قضا کرے اُن دنوں کی جب اچھا ہو جائے، رمضان میں یا اور کسی مہینے میں۔
حدیث نمبر: 649B2
وَقَدْ بَلَغَنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ الْعُكُوفَ فِي رَمَضَانَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ رَمَضَانُ ، اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
علامہ وحید الزماں
کہا مالک رحمہ اللہ نے: مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آئےاور اعتکاف نہ کیا یہاں تک کہ بعد رمضان کے اعتکاف کیا شوال میں دس روز تک۔
حدیث نمبر: 649B3
وَالْمُتَطَوِّعُ فِي الْاعْتِكَافِ فِي رَمَضَانَ ، وَالَّذِي عَلَيْهِ الْاعْتِكَافُ أَمْرُهُمَا وَاحِدٌ فِيمَا يَحِلُّ لَهُمَا وَيَحْرُمُ عَلَيْهِمَا وَلَمْ يَبْلُغْنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اعْتِكَافُهُ إِلَّا تَطَوُّعًا
علامہ وحید الزماں
اور اعتکاف نفل اور فرض کا ایک حال ہے، جو کام درست ہیں دونوں میں درست ہیں، اور جو منع ہیں دونوں میں منع ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہی پہنچا کہ اعتکاف آپ کا نفل تھا۔
حدیث نمبر: 649B4
قَالَ مَالِك فِي الْمَرْأَةِ : إِنَّهَا إِذَا اعْتَكَفَتْ ثُمَّ حَاضَتْ فِي اعْتِكَافِهَا إِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهَا ، فَإِذَا طَهُرَتْ رَجَعَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ أَيَّةَ سَاعَةٍ طَهُرَتْ ، ثُمَّ تَبْنِي عَلَى مَا مَضَى مِنَ اعْتِكَافِهَا
علامہ وحید الزماں
کہا مالک رحمہ اللہ نے: اگر عورت اعتکاف کرے، پھر اس کو حیض آ جائے تو وہ اپنے گھر چلی آئے، پھر جب پاک ہو مسجد میں جائے اور دیر نہ کرے، اور بنا کرے پہلے اعتکاف پر۔
حدیث نمبر: 649B5
وَمِثْلُ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ يَجِبُ عَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، فَتَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ فَتَبْنِي عَلَى مَا مَضَى مِنْ صِيَامِهَا وَلَا تُؤَخِّرُ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
اور ایسے ہی جس عورت پر دو ماہ کے روزے پے در پے واجب ہوں اور اس کو حیض آ جائے تو روزے نہ رکھے مگر حیض سے پاک ہوتے ہی، پھر روزے شروع کر دے اور دیر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 650
وَحَدَّثَنِي زِيَاد ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ فِي الْبُيُوتِ "
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجتِ ضروری کے لیے گھروں میں آتے تھے اعتکاف کی حالت میں۔
حدیث نمبر: 650B
قَالَ مَالِك : لَا يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مَعَ جَنَازَةِ أَبَوَيْهِ وَلَا مَعَ غَيْرِهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: معتکف جنازہ کے ساتھ نہ جائے اگرچہ اس کے ماں باپ کا جنازہ ہو یا کسی اور کا۔