کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: روزہ دار کو پچھنے لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ، قَالَ : ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا صَامَ لَمْ يَحْتَجِمْ حَتَّى يُفْطِرَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر اس کو چھوڑ دیا، تو جب روزہ دار ہوتے پچھنے نہ لگاتے یہاں تک کہ روزہ افطار کرتے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 608
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8304، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7531، 7532، 7533، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9412، 9413، 9428، شركة الحروف نمبر: 613، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 30»
حدیث نمبر: 609
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَا يَحْتَجِمَانِ وَهُمَا صَائِمَانِ "
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پچھنے لگاتے تھے روزے میں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 609
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7546، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9334، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9336
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 614، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 31»
حدیث نمبر: 610
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَا يُفْطِرُ ، قَالَ : وَمَا رَأَيْتُهُ احْتَجَمَ قَطُّ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر پچھنے لگاتے تھے روزے میں، پھر افطار نہیں کرتے تھے۔ کہا ہشام نے: میں نے کبھی نہیں دیکھا حضرت عروہ کو پچھنے لگاتے ہوئے مگر وہ روزے سے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 610
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7546، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9426، والشافعي فى «الاُم » برقم: 97/2، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2546، شركة الحروف نمبر: 615، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 32»
حدیث نمبر: 610B
قَالَ مَالِك : لَا تُكْرَهُ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ إِلَّا خَشْيَةً مِنْ أَنْ يَضْعُفَ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَمْ تُكْرَهْ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا احْتَجَمَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ سَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ أَرَ عَلَيْهِ شَيْئًا ، وَلَمْ آمُرْهُ بِالْقَضَاءِ لِذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي احْتَجَمَ فِيهِ ، لِأَنَّ الْحِجَامَةَ إِنَّمَا تُكْرَهُ لِلصَّائِمِ لِمَوْضِعِ التَّغْرِيرِ بِالصِّيَامِ ، فَمَنِ احْتَجَمَ وَسَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ حَتَّى يُمْسِيَ فَلَا أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: پچھنے لگانا روزہ دار کو مکروہ نہیں ہے مگر اس خوف سے کہ ضعیف ہو جائے، اور اگر ضعف کا خوف نہ ہو تو مکروہ نہیں ہے۔ پس اگر ایک شخص نے پچھنے لگائے رمضان میں، پھر روزہ توڑنے سے بچ گیا تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے، نہ اس کو اس دن کی قضا کا حکم ہے، کیونکہ پچھنے لگانا مکروہ ہے جب روزہ ٹوٹ جانے کا خوف ہو۔ پس اگر پچھنے لگائے اور روزہ توڑنے سے بچا یہاں تک کہ شام ہو گئی تو اس پر کچھ لازم نہیں، نہ اس پر قضا ہے اس دن کی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 610B
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر:، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 32»