حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مکہ کو جس سال مکہ فتح ہوا رمضان میں، تو روزہ رکھا یہاں تک کہ پہنچے کدید کو۔ پھر افطار کیا تو لوگوں نے بھی افطار کیا، اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ قاعدہ تھا کہ نئے کام کو لیتے تھے، پھر اس سے نئے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں میں۔
حدیث نمبر: 600
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ ، وَقَالَ : " تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ " وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ ، ثُمَّ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ
علامہ وحید الزماں
بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا لوگوں کو سفر میں جس سال مکہ فتح ہوا ہے روزہ نہ رکھنے کا۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”تاکہ تم قوی رہو دشمن کے مقابلہ میں۔“ اور روزہ رکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ کہا ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے: مجھ سے بیان کیا اس صحابی نے جس نے حدیث بیان کی مجھ سے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرج میں کہ پانی ڈالا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر، پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی وجہ سے۔ پھر کہا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہے آپ کے روزہ رکھنے کے سبب سے، تو جب پہنچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدید میں، ایک پیالہ پانی کا منگایا اور پانی پیا، تب لوگوں نے بھی روزہ کھول ڈالا۔
حدیث نمبر: 601
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے سفر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں، تو نہ عیب کیا روزہ دار نے روزہ کھولنے والے پر اور نہ بے روزہ دار نے روزہ دار پر۔
حدیث نمبر: 602
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: میں روزہ رکھا کرتا ہوں تو کیا روزہ رکھوں سفر میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا جی چاہے تو روزہ رکھ چاہے نہ رکھ۔“
حدیث نمبر: 603
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ لَا يَصُومُ فِي السَّفَرِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روزہ نہیں رکھتے تھے سفر میں۔
حدیث نمبر: 604
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ وَنُسَافِرُ مَعَهُ فَيَصُومُ عُرْوَةُ وَنُفْطِرُ نَحْنُ ، فَلَا يَأْمُرُنَا بِالصِّيَامِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر سفر کرتے تھے رمضان میں، اور ہم سفر کرتے تھے ساتھ ان کے، تو روزہ رکھتے تھے حضرت عروہ اور ہم نہ رکھتے تھے، سو ہم کو حکم نہیں کرتے تھے روزہ رکھنے کا۔