حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، تَقُولُ : " وَأَيُّكُمْ أَمْلَكُ لِنَفْسِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بیان کرتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے روزہ میں تو فرماتیں: تم میں سے کون زیادہ قادر ہے اپنے نفس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدیث نمبر: 596
قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ : قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : " لَمْ أَرَ الْقُبْلَةَ لِلصَّائِمِ تَدْعُو إِلَى خَيْرٍ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہشام بن عروہ نے کہا: عروہ بن زبیر نے کہا کہ روزہ دار کو بوسہ لینا اچھے کام کی طرف نہیں لے جاتا۔
حدیث نمبر: 597
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ " فَأَرْخَصَ فِيهَا لِلشَّيْخِ وَكَرِهَهَا لِلشَّابِّ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا: روزہ دار کو بوسہ لینا کیسا ہے؟ تو اجازت دی بوڑھے کو اور مکروہ رکھا جوان کے لیے۔
حدیث نمبر: 598
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَنْهَى عَنِ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منع کرتے تھے روزہ دار کو بوسہ اور مباشرت سے۔