کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: ر مضان کا چاند دیکھنے کا بیان اور ر مضان میں روزہ افطار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 577
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا رمضان کا تو فرمایا: ”نہ روزہ رکھو تم یہاں تک کہ چاند دیکھو رمضان کا، اور نہ روزے موقوف کرو یہاں تک کہ چاند دیکھو شوال کا، سو اگر چاند چھپ جائے ابر سے پس گن لو دن رمضان کے۔“
حدیث نمبر: 578
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کبھی مہینہ انتیس روز کا ہوتا ہے تو نہ روزہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھو، اور نہ روزہ موقوف کرو جب تک چاند نہ دیکھو، پس اگر ابر ہو تو شمار کر لو۔“
حدیث نمبر: 579
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کر کے: ”نہ روزہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو، اور نہ روزے موقوف کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو، اگر اَبر ہو تو تیس روزے پورے کر لو۔“
حدیث نمبر: 580
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ الْهِلَالَ رُئِيَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِعَشِيٍّ فَلَمْ يُفْطِرْ عُثْمَانُ حَتَّى أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چاند دکھائی دیا۔ تیسرے پہر کو تو روزہ نہ توڑا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہاں تک کہ شام ہو گئی اور آفتاب ڈوب گیا۔
حدیث نمبر: 580B1
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي الَّذِي يَرَى هِلَالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ : أَنَّهُ يَصُومُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُفْطِرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ رَمَضَانَ ، قَالَ : وَمَنْ رَأَى هِلَالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ لَا يُفْطِرُ لِأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا ، وَيَقُولُ أُولَئِكَ : إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ قَدْ رَأَيْنَا الْهِلَالَ ، وَمَنْ رَأَى هِلَالَ شَوَّالٍ نَهَارًا فَلَا يُفْطِرْ وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ ذَلِكَ ، فَإِنَّمَا هُوَ هِلَالُ اللَّيْلَةِ الَّتِي تَأْتِي
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص اکیلا آپ ہی رمضان کا چاند دیکھے وہ روزہ رکھے، اس لیے کہ اس کو افطار کرنا درست نہیں جب وہ جانتا ہے کہ یہ دن رمضان کا ہے، اور جس نے آپ ہی شوال کا چاند دیکھا وہ روزہ نہ توڑے اس واسطے کہ لوگ بدنام کریں گے کہ ہم میں سے وہ شخص جس کا اعتبار نہیں ہے روزہ نہیں رکھتا، اور جب اُن لوگوں پر چاند ہونا کھل جائے تو کہے کہ میں نے چاند دیکھا تھا، اور جس نے دن ہی میں شوال کا چاند دیکھا تو روزہ نہ توڑے بلکہ روزہ تمام کر لے اس لیے کہ وہ چاند اس رات کا ہے جو آنے والی ہے۔
حدیث نمبر: 580B2
قَالَ يَحْيَى : وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ : إِذَا صَامَ النَّاسُ يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَهُمْ يَظُنُّونَ أَنَّهُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَجَاءَهُمْ ثَبْتٌ أَنَّ هِلَالَ رَمَضَانَ قَدْ رُئِيَ قَبْلَ أَنْ يَصُومُوا بِيَوْمٍ ، وَأَنَّ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ أَحَدٌ وَثَلَاثُونَ ، فَإِنَّهُمْ يُفْطِرُونَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَيَّةَ سَاعَةٍ جَاءَهُمُ الْخَبَرُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْعِيدِ إِنْ كَانَ ذَلِكَ جَاءَهُمْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر لوگوں نے عید کے روز روزہ رکھا اس گمان سے کہ وہ رمضان کا دن ہے، پھر ایک معتبر آیا اور اس نے کہا کہ تمہارے روزہ رکھنے سے پیشتر ایک روز چاند دکھائی دیا اور یہ دن اکتیسواں ہے تو وہ روزہ توڑ ڈالیں جس وقت ان کو یہ خبر پہنچے، مگر جب زوال ہوگیا ہو تو نماز عید کی نہ پڑھیں۔