حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَعَى النَّجَاشِيَّ لِلنَّاسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نجاشی (بادشاہِ حبش) کا انتقال ہوا اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خبر دی اس کی موت کی اور نکلے مصلیٰ کو اور صف کھڑی کر کے نماز پڑھی جنازے کی اور تکبیریں کہیں چار۔
حدیث نمبر: 533
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي بِهَا " ، فَخُرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا ، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِهَا ، فَقَالَ : " أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْنَا أَنْ نُخْرِجَكَ لَيْلًا وَنُوقِظَكَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسکین بیمار ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ بیمار پرسی کرتے تھے مسکینوں کی اور ان کا حال پوچھتے تھے، سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب مر جائے یہ عورت تو مجھے خبر کرنا۔“ سو رات کو اس کا جنازہ نکلا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نا پسند کیا کہ جگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، جب صبح ہوئی تو اس کی کیفیت معلوم ہوئی۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”میں نے تو تم سے کہہ دیا تھا کہ مجھے خبر کر دینا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم کو آپ کا جگانہ اور رات کو باہر نکالنا ناگوار ہوا، سو نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صف باندھی اس کی قبر پر اور چار تکبیریں کہیں۔
حدیث نمبر: 534
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنِ الرَّجُلِ يُدْرِكُ بَعْضَ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَيَفُوتُهُ بَعْضُهُ ، فَقَالَ : " يَقْضِي مَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِكَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے پوچھا ابن شہاب سے کہ جس شخص کو بعض تکبیریں جنازہ کی ملیں اور بعض نہ ملیں وہ کیا کرے؟ کہا: جس قدر نہ ملیں ان کی قضا کرے۔